اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 113 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 113

113 سے منہ موڑ کر خدا کے مسیح کے در پر آدھونی رمائی اور پھر ایسا آیا کہ وہاں کا ہی ہورہا صرف یہی بات آپ کی زندگی کی ایک مکمل تفسیر ہے۔۱۸۹۸ء میں ہی آپ کو قادیان ہجرت کر آنے کی تحریک ہو چکی تھی اور آپ بھی اس کی خواہش رکھتے تھے اور پھر ۱۹۰۰ء میں ہجرت کا ارادہ تھا کہ ریلوے کی تعمیر کا ٹھیکہ لینے کی وجہ سے یہ ارادہ عملی جامہ نہ پہن سکا۔آپ نومبر ۱۹۰۱ء میں قادیان آئے اور قریباً دو ہفتہ کے قیام کے بعد واپس چلے گئے اور پھر اواخر دسمبر ۱۹۰۱ء میں اہل وعیال سمیت چھ ماہ کے قیام کے ارادہ سے تشریف لائے۔ابھی ہجرت کا قطعی فیصلہ کرنا باقی تھا۔چنانچہ آپ مولوی عبد اللہ صاحب فخری کو ۱۲ فروری ۱۹۰۲ء کو تحریر فرماتے ہیں: وو یہاں ہندو اور عیسائی مسلمان بن کر فیض اٹھا ر ہے ہیں قریباً ہر قسم اور ہر ملک کے لوگ آگئے ہیں۔ہر روز قدم آگے ہے پیچھے نہیں میں نے بھی ارادہ کیا ہے کہ ہجرت کر کے یہاں ہی رہوں خداوند تعالیٰ پورا کرے“۔ہجرت کے متعلق آپ کے جذبات سو بعد میں ہجرت کا عزم کر لیا چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔۱۹۰۱ء میں میں قادیان مع اہل وعیال آگیا اور پھر مستقل رہائش یہاں اختیار کر لی۔آپ کے اقارب جن کو امورد نیو یہ میں آپ کے صلاح و مشورہ کی ضرورت تھی۔اس کلی انقطاع کے مخالف تھے۔اور انتہائی کوشش کرتے تھے کہ آپ مالیر کوٹلہ واپس چلے جائیں لیکن گو آپ کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جن کی خاطر آپ بار بار اور سالہا سال تک حضور کی خدمت اقدس میں دعا کے لئے عرض کرتے رہے لیکن آپ کے ہجرت کے عزم کو مشکلات کا کوہ گراں کسی صورت میں بھی متزلزل نہ کر سکا اور آپ نے اشارتا اور کنایہ بھی کبھی اس امر کا اظہار نہیں کیا کہ ان دنیوی امور کی جبر و اصلاح آپ کے قادیان سے باہر قیام رکھنے کی متقاضی ہے۔ذیل میں چند اقتباسات و خطوط پیش ہیں۔جن معزز الحکم میں دارالامان کا ہفتہ کے زیر عنوان مرقوم ہے کہ ”عالی جناب نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ مع جناب بیگم صاحبہ وصاحبزادگان کے مکرر تشریف فرما ہوئے۔اس مرتبہ امید کی جاتی ہے کہ کئی مہینے تک آپ کا قیام دارالامان میں رہے گا۔چار ماہ بعد مہاجرین کا ذکر کرتے ہوئے پیر سراج الحق صاحب رضی اللہ عنہ نے تحریر کیا۔نواب محمد علی خاں صاحب مع اپنے رفقاء واہل بیت و ملازمین بہت مدت سے یہاں ہیں اور بہت سا اپنا رہنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔