اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 111 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 111

111 ہجرت میں التوا مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ نواب صاحب عرصہ سے ہجرت کر کے قادیان آلیسنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن اس وقت آپ کی ہمشیرہ بو فاطمہ بیگم صاحبہ جو آپ سے شدید محبت رکھتی تھیں اور علیحدگی گوارا نہ کرتی تھیں اور آپ کی پہلی اہلیہ سے بھی محبت رکھتی تھیں۔جو اس وجہ سے ان کے بہت زیر اثر تھیں، دونوں ہجرت سے مانع رہیں۔اہلیہ گو اس امر پر رضا مند تھیں کہ آپ اکیلے قادیان ہجرت کر جائیں لیکن خود جانا پسند نہ کرتی تھیں معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اہل وعیال کے بغیر مستقل طور پر دوسری جگہ قیام کر نا محال نظر آتا تھا اور خاص طور پر یہ مشکل بھی نظر آتی ہوگی کہ ماحول نامناسب تھا وہاں اہل وعیال کو مستقل طور پر اکیلے چھوڑ آنا ان کے لئے اور اپنے لئے ہر وقت کی پریشانی کا موجب ہوگا۔اس لئے آپ اس وقت ہجرت نہ کر سکے۔چنانچہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے ۱۸ نومبر ۹۸ ء کے مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ نواب صاحب کو یہ تحریک کی جا چکی تھی کہ وہ ہجرت کر کے قادیان آجائیں تا مدرسہ کا انتظام بہتر ہو سکے۔اس وقت مدرسہ سیکنڈ مڈل تک کھل چکا تھا۔۱۷ یا ۱۸ نومبر نواب صاحب کی اہلیہ اول کی وفات کی تاریخ ہے۔حضرت مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں۔-٣ قیه حاشیه -۲ نواب صاحب ۰۴-۸-۲۳ کو قادیان سے گئے۔۱۰-۰۴ - ۸ کو بمقدمہ کرم دین حضرت اقدس اور حکیم فضل الدین صاحب کو سات صد روپیہ جرمانہ ہوا تھا۔یہ رقم نواب صاحب نے لاہور سے بھجوائی تھی۔۴ - ۲۴-۱۰-۰۴ کو حضرت اقدس نے نواب صاحب کو سفر سیالکوٹ کے بعض امور کی سرانجام دہی کے لئے مرزا خدا بخش صاحب کو منگوانے کے لئے لکھا۔۵- نواب صاحب کو عنایت نامہ آنے پر حضرت اقدس نے ۰۵-۱-۱۲ کو ان کے لئے ابتلاء کے بارہ میں خط لکھا اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب والا خط بھی اسی مضمون کا ہے۔-4 ۲۴-۱۰-۰۴ سے ۰۵-۱-۱۲ نواب صاحب کا قادیان آنار یکارڈ سے ثابت نہیں بلکہ یہ ثابت ہے کہ کئی ماہ کے بعد اپریل ۰۵ء میں واپسی ہوئی۔-2 پنج شنبہ کی تقریر جس کا اوپر ذکر ہے حضور کا ۰۴-۱۲-۰۹ کومسجد اقصی میں احباب کی درخواست پر کرنا ثابت ہے۔