اصحاب احمد (جلد 1) — Page 266
265 جب یاد گیر میں بچیوں کے لئے ایک مدرسہ قائم کیا تو ابتداء میں محترمہ زہرہ بی صاحبہ ہی تعلیم دیتی تھیں۔بعد میں اور بہت سی استانیاں رکھ لی گئیں اور مدرسہ سرکاری طور پر بھی منظور ہو گیا تھا۔آپ کی ۱۳۳۵ ہجری میں وفات کے بعد عبدالکریم صاحب نے محترمہ زہرہ بی صاحبہ دختر مکرم عبد الرحمن صاحب غوری سے شادی کی۔موصوفہ بقید حیات ہیں۔شجرہ درج ذیل ہے۔عبد الرحمن عبدالکریم رسول بی اہلیہ مولوی مومن حسین) از بطن زهر ونی بہت سیٹھ شیخ حسن از بطن زہرہ بی بنت عبد الرحمن غوری (وفات ۱۹۲۹ء) محمد احسن (۱) محمد محسن (۲) فیض احمد (۳) نور الدین (۴) فیض النساء (۱) عزیز النساء (۲) (اہلیہ عنایت اللہ ) اہلیہ بشیر احمد ) عبدالکریم میتر بشارت احمد حظمت اللہ فرحت اللہ سمیع اللہ طاہر احمد ذاکر احمد ناصر احمد مبارک احمد انیس احمد کریمه افضل النساء احمد حسین بشیر احمد امته العزيز امتہ الباری کمال حسین اہلیہ موسیٰ خاں) (اہلیہ سیٹھ عبداللطیف) (سیٹھ شیخ حسن کے شجرہ میں تفصیل درج ہے) اکبر حسین عزیز حسین بقیہ زندگی کے حالات: - آپ ۱۹۱۹ء سے ۱۹۲۳ ء تک چار سال بمبئی میں تجارت کرتے رہے۔پھر بقیہ ساری عمر یاد گیر میں ہی کاروبار کرتے رہے۔آپ صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے۔خود داری کا مادہ غالب تھا گوشہ تنہائی کو پسند کرتے تھے۔جماعت میں کچھ عرصہ خطیب بھی رہے بزرگان سلسلہ اور اپنی قادیان کی طالب علمی کی زندگی کو بہت یاد کرتے تھے۔آپ بتاریخ ۹ رمضان ۱۳۵۸ ہجری بمعمر قریباً پچاس سال فوت ہو کر احمد یہ قبرستان یاد گیر میں دفن ہوئے۔آپ کی