اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 192 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 192

191 خلافت ثانیہ کی تصدیق میں رویا : منشی صاحب نے دعا کرنی شروع کی۔پہلے دن دیکھا کہ بارش ہورہی ہے اور آپ دو چھتریاں سر پر لگائے ایک سڑک پر جارہے ہیں اور ان کے سایہ تلے آپ کے پاس دائیں طرف دومستورات ہیں۔اچانک ان چھتریوں کے ٹانکے ٹوٹ گئے اور کپڑا اکٹھا ہو گیا۔مستورات آپ کے پاس سے جانے لگیں تو آپ نے کہا ٹھہرو میں ابھی ٹانکے لگاتا ہوں۔آپ ایک طرف سے کپڑا کھینچتے تو دوسری طرف اکٹھا ہو جاتا۔دوسری طرف کھینچتے تو پہلی طرف اکٹھا ہو جاتا۔یہ خواب آپ نے اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی (ٹیوٹر بورڈ نگ ) کو سنائی اور کہا کہ حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اسیح الاول دو سائے تھے جو جاتے رہے۔اب ٹانکے یعنی خلافت سے وابستگی ہی فائدہ دے گی۔اس پر خان صاحب نے سوال کیا وہ عورتیں کون تھیں؟ گھر گئے وہاں آپ کی لڑکی اور ہمشیرہ (بیوہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب) آئی ہوئی تھیں، کہنے لگیں ہم تو بیعت کر آئی ہیں۔اگر آپ نہ کریں گے تو ہمارا آپ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔پھر آپ نے اکبر شاہ خان صاحب کو سنایا کہ عورتوں والا حصہ بھی پورا ہوگیا۔جس کے متعلق آپ دریافت کرتے تھے انہوں نے کہا اب تو بات صاف ہو گئی۔اس طرح منشی صاحب نے بیعت سے قبل دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب کا معاملہ منشی صاحب سے قَلْبُو لَكَ الْامُوْرَ وَضَرَبُوا لَكَ الامثال کا ہے۔یعنی ہیرا پھیری کی باتیں کرتے ہیں۔اسی طرح منشی صاحب نے بعض اور خواہیں بھی دیکھیں۔چنانچہ پانچ چھ دن کے بعد چوہدری غلام محمد صاحب اکبر شاہ خاں صاحب، منشی صاحب اور آپ کے بڑے بھائی غلام قادر صاحب نے صبح کے وقت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام میفہم کے چوبارہ میں، جہاں ان دنوں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیٹھا کرتے تھے بیعت کر لی۔* تحریک بیعت خلافت ثانیہ کے لئے سیالکوٹ جانا : منشی صاحب بیان کرتے تھے کہ سیالکوٹ کی جماعت میں سے میر حامد شاہ صاحب اور چوہدری نصر اللہ خاں صاحب وکیل نے ابتداء میں خلافت ثانیہ کی بیعت نہیں کی جس کی وجہ سے سوائے شاذ استثناء کے باقی تمام جماعت بھی بیعت سے رکی رہی۔قادیان سے حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ اور مولوی محمد الدین صاحب حال ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ) وہاں بھیجے گئے۔واپس آنے پر معلوم ہوا کہ ان سے بہت بُرا * اکبر شاہ خاں صاحب کے بیعت کرنے کا ذکر الفضل جلد نمبر ۴۲ ج (صفحہ اکالم ۳) بابت یکم اپریل ۱۹۱۴ء میں درج ہے۔مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی و مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ امیر مقامی قادیان بیان کرتے ہیں کہ چوبارہ مذکور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان کا حصہ نہیں بلکہ خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے مکان کا حصہ ہے۔