اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 191 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 191

190 لوگ جو انتیس کے قریب تھے طاعون سے مر گئے اور چھوٹے چھوٹے بچے رہ گئے اور جن لوگوں نے انہیں غسل دیا وہ بھی مر گئے۔اور جو شخص عیادت کرنے کے لئے آیا وہ بھی مر گیا۔خلافت اولی وخلافت ثانیہ کے قیام کے وقت : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے وقت منشی صاحب سیالکوٹ میں تھے۔وہاں اس المناک سانحہ کی خبر لاہور سے کسی کے نام تار کے ذریعہ پہنچی۔اور تمام جماعت نے حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔خلافت اولیٰ کے ابتدائی ایام میں تین دفعہ مختلف اوقات میں منشی صاحب نے خواجہ کمال الدین صاحب سے کہا کہ ایک بار تو آپ نے خلافت کو قبول کر لیا۔لیکن آئندہ موقعہ پر آپ سمجھ کر بیعت کریں گے یعنی نہیں کریں گے۔لیکن خواجہ صاحب اس بات کا انکار کرتے اور کہتے کہ آپ کو کیا ہو گیا ہے۔آپ ایسی بات کہتے ہیں۔میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو میاں صاحب کی بیعت کریگا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی مرض الموت کے آخری ایام میں مولوی صدر الدین صاحب نے منشی صاحب سے کہا کہ حضور اب چند دن کے مہمان معلوم ہوتے ہیں۔آپ کا کیا خیال ہے؟ منشی صاحب نے کہا کہ خلافت ہونی چاہئے کہنے لگے کہ پھر ہمیں تو بیعت نہیں کرنی چاہئے۔ہم تو دو کی بیعت کر چکے ہیں۔منشی صاحب نے کہا کہ آپ نے ایک دفعہ جو خلافت کا راستہ اختیار کیا اُس پر اب بھی چلنا چاہئے۔کہنے لگے واہ! ایک ہی چرخہ چلاتے رہو پھر ہم تو بیعت نہیں کریں گے۔منشی صاحب نے کہا کہ یہ طریق شرارت آمیز ہے۔خلیفہ کی جو بات چاہی مان لی اور جو نہ چاہی انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ ہم نے بیعت تھوڑی کی ہے۔حضرت خلیفہ اسی الاول کی وفات کے روز رات کو جو لوگ مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی میں جمع ہوئے تھے۔ان میں منشی صاحب بھی تھے لیکن آپ نے ان سے کہا تھا کہ مولوی صاحب ! آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں خلیفہ بنتا ہوں۔یہ نہیں کہہ سکتے کہ خلیفہ سرے سے ہی کوئی نہ ہو۔جب حضرت خلیفتہ اسیح الاول نے وفات سے قبل اپنے جانشین کے متعلق وصیت مولوی محمد علی سے لکھوائی تھی، تو منشی صاحب اس مجلس میں موجود تھے۔جب مسجد نور میں بیعت خلافت ثانیہ ہوئی تو اس میں آپ شامل نہ ہو سکے۔جس کی وجہ یہ تھی کہ چوہدری غلام محمد صاحب بی۔اے ( حال پینشنز ہیڈ ماسٹر نصرت گرلز ہائی سکول) کا لڑکا اسی دن فوت ہو گیا تھا۔اس کی تدفین کے لئے اور لوگ موجود نہیں تھے۔اس لئے منشی صاحب نے اور چندلوگوں نے تدفین کی اور اس اثناء میں بیعت ہوگئی۔گو آپ بیان کرتے تھے کہ اگر اس بچہ کی تدفین کا معاملہ نہ ہوتا تو میں اپنے دل کی کیفیت نہیں بتا سکتا کہ فورا بیعت کرتایا نہ کرتا۔