اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 193 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 193

192 سلوک ہوا۔مولوی محمد الدین صاحب نے منشی صاحب سے کہا کہ ہماری اور بات تھی اور آپ کی اور ہے۔کیونکہ منشی صاحب سیالکوٹ کے باشندے تھے ) اس لئے آپ ضرور وہاں جائیں اور ان لوگوں کو سمجھائیں۔مئی یا جون ۱۹۱۴ء کی بات ہوگی۔منشی صاحب رات کو سیالکوٹ پہنچے تو کسی نے بتایا کہ آج جماعت کا اجلاس ہوا تھا۔تمام سے دستخط کرا کے بیعت نہ کرنے کا اقرار لیا گیا ہے۔لیکن چوہدری نصر اللہ خاں صاحب نے دستخط نہیں کئے۔میر حامد شاہ صاحب اور منشی صاحب کے مکان آمنے سامنے تھے۔اور اُن کے آپس میں بہت گہرے تعلقات تھے۔اگلے دن صبح منشی صاحب مسجد میں پہنچے۔میر صاحب سے ملے تو میر صاحب کہنے لگے کیا آپ نے مجھ سے کوئی بات کرنی ہے؟ آپ نے ایجاب میں جواب دیا۔تو کہنے لگے مجھے بالکل فرصت نہیں۔پھر دیگر احباب سے بھی جن سے اچھے تعلقات تھے ملاقات ہوئی۔منشی صاحب نے اپنی بیعت اور استخارہ کا ذکر کیا۔مستری فضل الدین صاحب نے (جواب مولوی محمد علی صاحب کے پیرو ہیں ) کہا کہ آپ نے خوابیں بنالیں ہم کیا کریں۔گفتگو سے منشی صاحب نے بھانپ لیا کہ بعض لوگ مخالفت میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ حضرت خلیفۃ الثانی ایدہ اللہ کو گالیاں دیتے ہیں۔اس لئے آپ نے سمجھا کہ اب ان کو وعظ ونصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔اور دو تین دن چکر لگا کر ہر ایک سے ملے اور صرف ایک نصیحت کی کہ (اگر تسلی نہیں تو ) بیعت ہرگز نہ کریں۔لیکن حضرت میاں صاحب کو گالیاں نہ نکالیں۔اس کے متعلق احتیاط برتیں کیونکہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صاحبزادہ ہیں۔منشی صاحب نے یہ راہ اس لئے اختیار کی کہ آپ نے سمجھا کہ جو گالیوں تک نوبت پہنچائے گا اس کی واپسی کی کوئی امید نہیں اور جو اس سے بچارہا اس کے متعلق امید ہوسکتی ہے کہ کسی وقت بیعت کر لے۔پہلے دن آپ چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کے پاس بھی گئے تھے اور ان سے ذکر کیا تھا کہ میں یہ سمجھ کر آیا تھا کہ میں جسے کہوں گا بیعت کر لے گا۔لیکن میں نے یہاں آکر طور طریقہ بدلا ہوا پایا ہے۔چوہدری صاحب نے کہا کہ میں رات بیعت کا خط لکھ چکا ہوں، ورنہ آپ کے کہنے پر ضرور بیعت کر لیتا۔تین دن کے بعد مسجد میں پھر میر حامد شاہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔کہنے لگے آپ نے کوئی بات کرنی تھی کیا تھی ؟ منشی صاحب نے کہا میں صرف یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جولوگ بیعت خلافت سے علیحدہ رہے ہیں ان کا کیا خیال ہے؟ میر صاحب نے فرمایا کہ آپ کے خیال میں کیا ہے؟ منشی صاحب نے کہا کہ میرے خیال میں ان کے دل میں تکبر پیدا ہو گیا اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہمارے بغیر سلسلہ کا چلنا مشکل ہے۔میر صاحب کہنے لگے میرا بھی یہی خیال ہے۔آپ نے دریافت کیا کہ پھر آپ نے بیعت کیوں نہیں کی؟ کہنے لگے کہ اگر میں نے بیعت کر لی تو یہ لوگ محروم رہ جائیں گے اور انہیں کہنے والا کوئی نہیں رہے گا۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ان کا