اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 190 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 190

189 حکیم میر حسام الدین صاحب کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ سلطان اس طرح بیمار ہے، آپ چل کر دیکھیں۔حکیم صاحب نے کہا کہ اسے سخت قسم کی طاعون ہے۔کوئی اس کے سامنے کھڑا ہو کر بات نہ کرے۔ورنہ وہ بھی مر جائے گا۔اور آپ نے جا کر اُسے دیکھا۔نمونیہ والی طاعون سے بیمار تھا۔وہ بھی مر گیا، اس کے نہلانے والا بھی مر گیا اور ان دونوں کے علاوہ طاعون ہی سے چند دن کے اندر سلطان کے کنبہ کے اٹھائیس (۲۸) یا تمہیں (۳۰) آدمی اور ہلاک ہو گئے۔* اس بارہ میں حضور حقیقتہ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں: سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی لکھتے ہیں کہ حافظ سلطان سیالکوٹی حضور کا سخت مخالف تھا۔یہ وہی شخص تھا جس نے ارادہ کیا تھا کہ سیالکوٹ میں آپ کی سواری گذرنے پر آپ پر راکھ ڈالے۔آخر وہ سخت طاعون سے اسی ۱۹۰۴ ء میں ہلاک ہوا اور اس کے گھر کے نو یا دس آدمی بھی طاعون سے ہلاک ہوئے۔‘سے حافظ محمد شفیع صاحب سیالکوٹی بیان کرتے ہیں کہ : اس محلہ کے مولوی حافظ سلطان نے جو میرے استاد تھےلڑکوں کو جھولیوں میں راکھ ڈلوا کر انہیں چھتوں پر چڑھا دیا۔اور انہیں سکھایا کہ جب مرزا صاحب گذریں تو یہ راکھ ان پر ڈالنا۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔(حافظ محمد شفیع صاحب کی۔ناقل ) مائی صاحبہ اور حافظ صاحب دونوں نے بتلایا کہ حافظ سلطان کا مکان ہمارے سامنے ہے۔یہ گھر بڑا آباد تھا تھیں چالیس آدمی تھے۔مگر اس واقعہ کے بعد سیالکوٹ میں طاعون پڑی۔اور سب سے پہلے اس محلہ میں طاعون سے حافظ سلطان اور اس کے بعد یکے بعد دیگرے ان کے گھر کے * حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام میضہم تحریر فرماتے ہیں کہ ” جب کہ ماتحت عدالت نے مولوی کرم دین والے مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا آپ سیالکوٹ تشریف لے گئے۔اس سفر کی وجہ یہ تھی کہ سیالکوٹ کی جماعت نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ آپ اپنی ابتدائی عمر میں کئی سال تک سیالکوٹ میں رہے ہیں۔پس اب بھی جب کہ خدا نے آپ کو ایسی عظیم الشان کامیابی عطا فرمائی ہے۔آپ ایک دفعہ پھر چند دن کیلئے سیالکوٹ تشریف لے چلیں۔اور اس شہر کو اپنے مبارک قدموں سے برکت دیں۔“ (سلسله احمدیه صفحه ۱۴۴ و صفحه ۱۴۵) حضور ۲۷ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے اور ۴ نومبر ۱۹۰۴ء کو واپس تشریف لائے والحکم جلد ۸ - ۳۸/ ۳۹ بابت ۱۰/ ۱۷ نومبر ۱۹۰۴ء۔سفر سیالکوٹ کے مفصل حالات کے لئے احباب پر چہ مذکورہ والبدر جلد۳ نمبر ۴۲/۴۱ ۴۴ ۴۵ کی طرف رجوع کریں۔(مؤلف)