اصحاب احمد (جلد 12) — Page 83
83 تائید اور نصرت کے ساتھ تمہارا حامی کا ر ہوگا۔اس کے بعد تم حتی الامکان وہ طرز اختیار کرنے کی کوشش کرو گی۔جس سے سب کو اپنا گرویدہ کر لو۔اور ہر ایک کے ساتھ ہمدردی اور محبت کے ساتھ پیش آؤ۔کسی کی ریس نہ کرو۔رشتہ داروں کے دکھ درد میں شریک رہوتا کہ تمہارا دکھ دردوہ اپنا دکھ درد محسوس کریں۔سچی خیر خواہی انجام کا ردشمن کو بھی اپنا بنا دیتی ہے اور یہاں تو تم اپنے عزیزوں میں جا رہی ہو۔لیکن اس امر کا خیال ضرور رہے کہ اس قدر اپنے آپ کو نہ مٹا لو کہ دوسرے تمہاری ہستی کو ہی نہ محسوس کریں۔انسان کو اپنی عزت نفس کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔جو اپنی عزت خود نہیں کرتا دوسرے بھی اس کی عزت نہیں کرتے۔اس لئے تسلیم اور رضا میں خود داری کا پہلو ضرور شامل ہونا چاہئے۔اس کے علاوہ تم کو اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہئے کہ نکما اور بیکا ر آدمی دوسروں کی نظر میں بالکل گر جاتا ہے۔اس لئے کام کرنا اور خدمت کرنا اپنا شیوہ بنالو۔اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالو۔انسان کی حالت دنیا میں ایک جیسی نہیں رہتی۔تنگی ترشی دونوں پہلو لگے ہوئے ہیں۔تنگی میں صبر کو کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑو۔بغیر کسی قسم کی گھبراہٹ کے اللہ کی نصرت صبر وشکر کے ساتھ طلب کرتے رہو اور ایسی حالت میں اپنے میاں کیلئے امن اور تسکینت کا فرشتہ بنی رہو۔اپنے مطالبات سے اس کو تنگ نہ کرو۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل آجائے۔لیکن ایسی حالت میں ایسی قناعت نہیں چاہئے کہ دونوں بیکار ہو کر بیٹھے رہو۔خود بھی اور میاں کو بھی خدا کے آگے جھکائے رکھو اور کام کرنے اور محنت کرنے کی ترغیب ان کو دیتی رہو۔تمہاری امی اس معاملہ میں بہترین نمونہ ہیں۔تم نے خود دیکھا ہے کہ کس قدر تنگی انہوں نے میرے ساتھ اٹھائی لیکن اس وقت کو نہایت وفا اور محبت کے ساتھ گزار دیا۔ایک طرف تو یہ تسلیم و رضا تھی اور دوسری طرف مجھے کام کرنے اور باہر نکل جانے کی ترغیب دیتی تھیں۔آخر اس صابر و شاکر ہستی کی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ نے سنا ایک طرف مجھے کام کرنے پر انہوں نے آمادہ کر دیا دوسری طرف ان کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور فضل کے دروازے میرے پر کھول دیئے۔اللہ تعالیٰ تم کو اپنی امی کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔گھر میں مختلف قسم کی تکالیف بھی آئیں تنگیاں بھی آئیں۔لیکن اس خدا کی بندی نے اپنے میکے میں ان تکالیف کا کبھی بھی ذکر نہ کیا۔خود اپنے نفس پر سب کچھ برداشت کیا لیکن دوسروں کو اپنی تکلیف میں شامل کرنا گوارا نہ کیا۔وقت تھا گزر گیا۔میری بچی! مجھے بڑی خوشی ہو گی۔تم بھی اپنی امی کی طرز ہی اختیار کرو۔وہ تمہارے لئے بہترین