اصحاب احمد (جلد 12) — Page 25
25 شروع شروع میں جب والد صاحب قادیان آئے ہیں۔تو ملازموں کی اور خاص کر تربیت یافتہ خادمات کی از حد دقت تھی۔مالیر کوٹلہ سے یہاں آنا کوئی پسند نہیں کرتا تھا۔قادیان کے اجڈ لوگ ہمیں پسند نہ تھے۔اس ضمن میں بھی والد صاحب اور خالہ صاحبہ نے بہت تکلیف برداشت کی۔والد صاحب جب یہاں آئے۔تو آپ کو قریباً ایک دس بارہ فٹ مربعہ کمرہ اور ایک کوٹھڑی شاید 8X8 مربعہ فٹ ملی ( یعنی حضرت سیدہ ام متین والا حصہ دار مسیح کا) غسل خانہ اور ٹی بھی جو کہ آرام کا موجب ہو سکے۔بعد میں بنوانی پڑی۔ورنہ پہلے انتظام بہت معمولی تھا۔یہ اس رئیس اور ان کی بیگم کی قادیان میں جائے رہائش تھی جو کہ ایک بڑے محل کو مالیر کوٹلہ میں چھوڑ کر آئے تھے۔میں نے والد صاحب سے دریافت کیا کہ آپ نے اس قدر بڑے مکان کو چھوڑ کر قادیان میں اتنے تنگ مکان میں آکر کس طرح گزارہ کیا ؟ میرے جیسا آدمی جس نے وہ آرام و آسائش نہیں دیکھے جو آپ نے اپنی زندگی میں دیکھے تھے۔اس تنگ جگہ میں گزارہ کرنا مشکل سمجھتا ہے آپ نے کس طرح گزران کی؟ فرمانے لگے وہ زمانہ ایسا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ( داغ ہجرت ) کا الہام ہوا تھا۔گورنمنٹ بھی ہمارے خلاف تھی۔لوگوں کی مخالفت بھی زوروں پر تھی تو میں نے مالیر کوٹلہ اس عزم وارادہ سے چھوڑا تھا کہ اب وہاں واپس نہیں جانا۔اب معلوم نہیں کہ آئندہ زندگی ہمیں ہجرت کرنے کی وجہ سے کہیں جنگلوں وغیرہ میں گزارنی پڑے گی اور جو کچھ ہمارے پاس ہے یہ بھی ہمارے پاس رہے گا یا نہیں سوجو کچھ میں ملتا تھا وہ بھی غنیمت معلوم ہوتا تھا اس لئے مجھے کسی قسم کی تنگی اور تکلیف کا احساس نہیں ہوا اصحاب احمد جلد دوم ص 130-131 ) میاں محمد عبد الرحمن خان صاحب اس تعلق میں بیان کرتے ہیں :۔اس مکان کی تنگی کی یہ حالت تھی کہ ایک کوٹھڑی میں جس میں صرف ایک پلنگ کی گنجائش تھی حضرت والد صاحب اور خالہ جان رہتے تھے اور ہم تینوں بھائی ساتھ کے کچے کمرہ میں رہتے تھے۔دوسرا کچا کمرہ حضرت والد صاحب کا دفتر تھا جب بارش ہوتی تو ان کے گرنے کا خطرہ ہوتا۔اس لئے ہمیں حضرت والد صاحب دار اسی میں اپنے پاس بلا لیتے اور ساتھ کے کمرہ میں ہم فرش پر سوتے اور موسم سرما میں تو موسم بھر ہم چاروں بہن بھائیوں کو وہاں فرش پر سونا پڑتا۔کیونکہ سب کیلئے چار پائیاں کمرہ میں نہ سما سکتی تھیں۔بیت الخلاء مکان سے بالکل باہر تھا۔ہمیں بان کی چار پائیاں استعمال کرنی پڑتی تھیں۔قادیان سے ضروریات دستیاب نہ ہوتی تھیں۔حتی کہ جلانے کیلئے ایندھن بھی حضرت والد صاحب مالیر کوٹلہ سے منگواتے تھے۔ہریکین لیمپ کے سوا روشنی کا کوئی انتظام نہ تھا تین چار سال اسی راہبانہ حالت میں گزر کی اصحاب احمد جلد دوم ص 130-131)