اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 24 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 24

24 بھی تھا۔لیکن حضور ایک کو نہ میں بیٹھ جاتے تھے۔پھر تکیہ کون استعمال کرتا۔میں بھی ایک کو نہ میں بیٹھ اصحاب احمد جلد دوم ص 132-133) جاتا۔تکلف اس مجلس میں نہیں ہوتا تھا۔“ حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ نواب صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جس لطف اور روحانی سرور میں وہ دن گزرے نہ اس سے پہلے دیکھے نہ بعد میں۔کھانا کئی ماہ تک مہمانداری کے طور پر ساتھ ہی رکھا اور الگ ہونے پر بھی بہت خیال رکھتے رہے۔یعنی کوئی اچھا کھانا اور پھل وغیرہ بھجواتے رہے۔حضرت اقدس کی شفقت و محبت کی نظیر نہ دے سکتا ہوں نہ پھر پاسکتا ہوں۔۔۔۔نہایت محبت سے عذر کو قبول فرما کر۔۔۔۔اور بھی دلداری شروع کرتے کہ سرا بر کرم کے بار احسان سے اور بھی جھک جاتا۔میاں عبدالرحیم خان صاحب کی علالت کے دنوں میں حضرت نے بے حد فکر اور توجہ مبذول رکھی ہر وقت خود آتے اور دیکھتے اصحاب احمد جلد دوم ص 645-646) میاں محمد عبد الرحمن خانصاحب سناتے ہیں کہ :۔’والد صاحب نے بڑی کوشش کی کہ حضور اجازت دیں کہ کھانے کا انتظام اپنا کریں۔اور عرض کیا کہ میرے پاس باورچی ہیں۔لیکن حضور نہ مانے اور قریباً چھ ماہ تک حضور کے ہاں سے کھانا آتا رہا۔جس کا انتظام حضرت ام المومنین خود فرماتیں۔پھر یہاں تک ہی بس نہیں۔حضور نواب صاحب کے خدام سے بھی دریافت فرمایا کرتے کہ نواب صاحب کون سا کھانا شوق اور رغبت سے کھاتے ہیں تاکہ کسی قسم کی تکلیف نہ ہو پھر وہ کھانا بھجواتے۔اعلیٰ مہمان نوازی لمبے عرصہ تک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔لیکن حضور کی مہمان نوازی اعلیٰ درجہ کی تھی اور برابر چھ ماہ تک رہی۔کھانا بہترین ہوتا تھا۔اتنے لمبے عرصہ کی مہمان نوازی کے بعد بھی حضور نے بصد مشکل اور والد صاحب کے بار بار اصرار کرنے پر گھر پر کھانے کا 66 اپنا انتظام کرنے کی اجازت دی۔ورنہ حضور یہی پسند فرماتے تھے کہ یہ مہمان نوازی بدستور جاری رہے مکرم میاں محمد عبد اللہ خان صاحب فرماتے ہیں کہ چھ ماہ تک پانچ پانچ چھ چھ کھانے حضور کے ہاں سے روزانہ تیار ہو کر آتے تھے اور والد صاحب نے بتایا کہ میں اپنے طور پر لنگر خانہ کیلئے رقم دے دیتا تھا تا کہ سلسلہ پر بوجھ نہ ہو۔میاں محمد عبد اللہ خان صاحب بیان کرتے ہیں :۔اصحاب احمد جلد دوم ص 133 )