اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 198 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 198

198 دوسری باتوں پر خرچ کر کے جو لذت پاتا ہوں وہ نفس پر خرچ کرنے سے کہاں ملتی ہے۔مجھے یاد ہے جب آخری بیماری میں چیک اپ (معائنہ ) کیلئے ہسپتال جانے لگے۔تو مجھے امی جان نے بلا کر کہا۔کہ ہسپتال جانا ہے تم اپنے ابا جان کے کپڑے ایک چھوٹے سوٹ کیس میں رکھ کر تیار کر دو۔میں کپڑے کیا رکھتی۔وہاں تو تین بنیان لمبی آستین کے ( آپ ہمیشہ گھر میں بیماری کے عرصہ میں گرمیوں میں لمبی آستین کی بنیان اور پاجامہ پہنتے تھے ) تین چار لکیر دار نائٹ سوٹ کے پاجامے۔پانچ چھ قمیص، جن میں سے اکثر کے کالر خراب تھے۔اسی طرح ایک رومال کل کپڑے تھے۔جو بکس میں پڑے تھے۔میں روتی جاتی تھی۔اور دل میں کہتی تھی۔ابا جان ! ہزاروں روپیہ خرچ ہوتا ہے اور آپ نے اپنے نفس کو اس طرح مارا ہوا ہے۔اکثر یہ ہوتا تھا۔وفات سے چند مہینے پہلے تک میں دیکھا کرتی تھی۔کہ گرمیوں میں غسل کر کے نکلے اور اپنا ایک بنیان اور رومال خود دھویا ہوا ہاتھ میں پکڑا ہوتا تھا۔نوکر کو آواز دے کر کہتے۔اس کو باہر دھوپ میں ڈال آؤ۔وفات سے غالباً مہینہ ہمیں روز قبل آپ مکمل معائنہ کروانے کیلئے جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے ہسپتال میں داخل ہوئے۔ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ دل کی حالت بہت خراب ہے۔عزیزم عباس احمد خاں زور دے کر اپنی کوٹھی پام ویو ( ڈیوس روڈ ) پر ہی لے گئے کیونکہ وہاں سے سب ڈاکٹر قریب قریب تھے اور ماڈل ٹاؤن شہر سے بارہ میل دور تھا۔عزیز کی خوش قسمتی تھی کہ ان کو خدمت کا موقعہ ملا۔کئی دفعہ ابا جان ماڈل ٹاؤن جانے کیلئے تیار ہوئے۔مگر عزیز نے نہ جانے دیا۔آپ کی طبیعت روز بروز گر رہی تھی۔امی جان کے دریافت کرنے پر کہ طبیعت مسلسل گر رہی ہے۔کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ڈاکٹر یوسف صاحب نے کہا کہ آدھا دل تو 1948ء کے تھر مباسس کے حملہ سے زخمی ہو کر بالکل ختم ہو گیا تھا۔تیرہ سال سے یہ آدھا دل کام کر رہا تھا۔آخر یہ کب تک کرتا۔1948ء کے حملہ کے بعد ڈاکٹر کہتے تھے کہ ہمیں اب پتہ لگ گیا ہے کہ دعائیں بھی کوئی چیز ہیں۔ان کی زندگی ایک معجزہ ہے ہم نے کتابوں میں ایسے کیس پڑھے ہیں۔مگر اپنی تمام پریکٹس میں کبھی ایسا کیس نہیں دیکھا اور پھر ایسے کیس کا بچ جانا سب سے بڑی حیرت کی بات ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ( خدا تعالیٰ آپ کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرما دے۔آمین ) اس قدر خیال رکھتے تھے کہ آخری بیماری کے دوران آپ جابہ میں تھے۔روزانہ وہاں سے آدمی ربوہ آتا تھا اور لاہور ٹرنک کال کر کے ابا جان کی صحت کا حال معلوم کر کے حضور اقدس کی خدمت میں پہنچاتا تھا۔وفات کے دن تک ایک دن بھی