اصحاب احمد (جلد 12) — Page 197
197 ٹاؤن میں ہماری کوٹھی میں آکر ایک کتیا نے بچے دیئے۔نوکر اس کو مار نے نکالنے لگے۔آپ سخت ناراض ہوئے۔اس کا دودھ مقرر کروایا۔کھانا نوش فرمانے کے بعد اپنے ہاتھ سے اس کا کھانا بناتے۔سب کی پلیٹوں میں سے بچی ہوئی ہڈیاں بوٹیاں ڈال کر شور بے میں بھگو کر اس کا کھانا نوکر کو دیتے کہ اسے کھلا آؤ۔اب کتیا کو ہمارا گھر ایسا پسند آیا کہ وہ وہیں کی ہو کر رہ گئی۔مہمان نوازی آپ کی نمایاں امتیازی خصوصیت تھی۔مہمان کی آمد اور اس کی تواضع سے اس قدرمسرور ہوتے۔گویا آپ کا سیروں خون بڑھ گیا ہے۔جب سے ہوش سنبھالا۔یاد نہیں کہ ہمارا گھر مہمانوں سے خالی ہوا ہو۔نوکر کام کی زیادتی کی شکایت کرتے تو امی جان کہنتیں صبر کرو۔آج کل مہمان ہیں۔مگر نوکر جواب دیتے کہ جی کب مہمان نہیں ہوتے۔یہ جائیں گے تو اور آجائیں گے۔تقسیم ملک کے بعد ابا جان کی لمبی علالت اور تیمارداری سے امی جان کی بھی صحت بالکل خراب ہوگئی تھی۔پرانے نوکر ادھر ادھر بکھر گئے تھے۔نئے نوکر وقت بے وقت کام سے گھبرا جاتے تھے۔مگر ابا جان کی یہی خواہش تھی کہ اگر کوئی تھوڑی دیر کیلئے بھی ملنے آئے تو نہایت ہی اچھے پیمانے پر اس کی خاطر تواضع کی جائے۔اس لئے امی جان کسی وقت گھبرا بھی جاتی تھیں۔بعض وقت ہم بہنوں میں سے کوئی گھر پر ہوتا۔تو ہمارے پاس آتے اور کہتے کہ دیکھو تمہاری امی کو پتہ نہ لگے وہ بیمار ہیں ان کی طبیعت پر بوجھ پڑے گا۔تم اتنے آدمیوں کا کھانا، چائے ، شربت ( جیسا بھی موقع ہوتا ) باہر بھجوا دو۔ہمیشہ یہی فرماتے کہ میرے لئے خدا کو یہی منظور ہے کہ میرا دستر خوان بے حد وسیع ہو۔اگر کبھی میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں اپنے ان اخراجات کو کم کر دوں۔تو ہمیشہ میرا کسی اور راستہ سے روپیہ دو گنا ہوکر نکل جاتا ہے۔بے شک لوگ ان کو نواب عبداللہ خان کہتے تھے مگر ہمیشہ میرے باپ کا دل غریب اور نفس غریب رہا۔انہوں نے کبھی اس لقب کو کسی خوشی یا فخر کا موجب نہیں سمجھا۔مجھے یاد ہے ہم کبھی گرمیوں میں پہاڑ وغیرہ پر جاتے۔رستہ میں جنگلوں میں ڈاک بنگلہ وغیرہ میں ٹھہر تے۔تو ابا جان اکثر باہر سے امی جان کے پاس آکر کہتے۔بیگم ! ایک تو یہ نوابی پیچھا نہیں چھوڑتی یہاں جنگل میں ان کو کس نے بتا دیا کہ ہم نواب ہیں۔سارے لوگ کہہ رہے ہیں۔نواب صاحب آئے ہیں۔اور اس بات سے گھبراتے تھے۔انہوں نے ہمیشہ اپنے نفس کو غربت میں رکھا۔نفس پر خرچ کرنا جانتے ہی نہ تھے۔کبھی کبھی امی جان کو کہا کرتے تھے۔بیگم ! میں بعض وقت سوچتا ہوں کہ نفس کا بھی کوئی حق ہوتا ہے۔مگر ا