اصحاب احمد (جلد 12) — Page 199
199 اس کا ناغہ نہیں ہوا۔طبیعت روز بروز گر رہی تھی ، آخر وہ دن بھی آپہنچا، جس کا دھڑ کا لگا ہوا تھا۔وفات سے ایک روز پہلے امی جان کو شدید سر درد کا دورہ تھا۔وہیں کمرے میں ایک چار پائی پر منہ سر لیٹے پڑی رہیں۔دو پہر کے وقت اباجان نے جسم میں درد اور سخت سردی لگنے کی شکایت کی اوپر کپڑے وغیرہ اوڑھاتے اور دباتے رہے شام کو تھرما میٹر لگایا تو ٹمپریچر ایک سو چھ تک تھا۔سر پر برف رکھی گئی ، نمک اور گھی سے پنڈلیاں ہوتی گئیں، دوائیاں تو مل ہی رہی تھیں۔بخار کچھ کمی پر آ گیا۔مغرب کے قریب امی جان کا سر درد کچھ کم ہوا۔اٹھ کر ابا جان کے پلنگ کے پاس آئیں۔ابا جان نے نہایت محبت سے ہاتھ پکڑ کر پوچھا۔بیگم ! اب طبیعت کیسی ہے ؟ سب مغرب کی نماز پڑھنے چلے گئے۔امی جان نے بھی نماز شروع کر دی۔تھوڑی دیر کے بعد ہی میری بہن شاہدہ بھاگتی ہوئی آئی کہ جلدی چلو۔ابا جان کی طبیعت ایک دم خراب ہو گئی ہے سب کمرے میں جمع ہو گئے۔بھائی منوراحمد بلڈ پریشر دیکھ رہے تھے۔1948ء والے دورے جیسی حالت ہو گئی تھی۔فور اڈاکٹر یوسف صاحب کو بلایا گیا۔وہ اتنے سالوں کے معالج تھے۔حالت دیکھتے ہی سمجھ گئے ان کی طبیعت پر بے حد اثر تھا۔بلڈ پریشر دیکھا۔اور pathedine کا انجکشن لگا کر چلے گئے اور کہہ گئے کہ اس سے ان کو غنودگی رہے گی اور تکلیف کا احساس کم ہو جائے گا۔ابا جان کو اپنی تکلیف کا احساس ہو گیا تھا۔امی جان کو کہا۔بیگم ! آج رات آپ میرے پاس سے نہ اٹھنا۔دن بھر کے سر درد کے دورے سے خستہ حال ہونے کے باوجود پھر بھی امی جان جو پلنگ کے ساتھ کرسی بچھا کر میٹھی ہیں تو سوائے نماز یا غسل خانہ جانے کے نہیں اٹھیں۔سب نے کہا کہ تھوڑی دیر کے لئے کمر سیدھی کر لیں۔مگر ابا جان کے فرمان کے مطابق وہ نہ اٹھیں۔تمام رات کبھی پینے پو چھتی جاتیں اور کبھی کوئی دوائی وغیرہ پلا دیتیں۔ڈاکٹر صاحب کہہ گئے تھے۔ساری رات آکسیجن دینی ہے بالکل بند نہ کی جائے۔تمام رات عزیزم عباس احمد اور دوسرے بھائی اور بہن آکسیجن دیتے رہے۔پسینے آتے جا رہے تھے۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد جسم پسینوں سے تر ہو جاتا تھا۔غنودگی کی کیفیت تھی۔مگر ہوش و حواس قائم تھے۔ایک دفعہ مجھے اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّي مِنْ كُلّ ذَنْت اور ایک دفعہ اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله کی بھی آواز آئی۔حضور نے بھی کوئی ہومیو پیتھک دوا بھجوائی تھی جو پانی میں گھول کر غالباً آدھ آدھ گھنٹہ کے وقفہ سے دینی تھی۔مجھے یاد ہے کہ اس رات گلوکوز یا کوئی اور دوا دینے کی کوشش کی جاتی تو انکار کر دیتے تھے۔لیکن جس وقت حضور کی دوا کا وقت