اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 196 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 196

196 تھے کہ بعض دفعہ نقصان اٹھاتے۔اگر کوئی شکایت بھی کرتا تو نہیں مانتے تھے۔کہتے کہ نہیں یہ تو نماز پڑھتا ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ ایسا ہو مگر پھر بھی جب حقیقت میں اپنی حسن ظنی کو مجروح ہوتے دیکھتے۔تو بہت افسردہ ہوتے ، دعائیں مانگتے کہ یہ شخص ایسا نہ ہو۔تا کہ میری حسن ظنی قائم رہے۔نوکروں کے ساتھ بے حد نرمی کا سلوک تھا۔بعض اوقات ان کو اتنی برابری کا رنگ دے دیتے تھے کہ ہمارے ملک کے نوکروں کے ظرف زیادہ بلند نہ ہونے کے باعث ان میں کچھ بے رحمی اور بے خوفی پیدا ہو جاتی۔پھل وغیرہ جو کوئی چیز آتی ضرور پہلے نوکروں کے بچوں کو بلا کر دیتے۔ابا جان کا ایک ہمشیرا تھا (جس کی ماں کا ابا جان نے دودھ پیا تھا ) اس کو چرس، بھنگ وغیرہ اور نشہ آور چیزوں کے استعمال کی بیہودہ عادت تھی۔مگر باوجود اس کی بد عادات کے ساری عمر اس کا خیال رکھا۔اس کی بیوی نے میرے کئی بہن بھائیوں کو پالا تھا۔ہمارے گھر میں یہ دستور تھا کہ جو بچوں کو دودھ پلانے کیلئے یا ویسے بچوں کی کھلائیاں بن کر آتی تھیں۔تو جب بچہ دو اڑھائی سال کا ہوتا تھا۔تو اس وقت اس کو رخصت کیا جا تا تھا۔جس کو پنجابی میں ”بدو گی کہتے تھے۔اس وقت اس کو انعام کے طور پر متعد دسونے اور چاندی کے زیور اور ہمیں چھپیں یا اس سے بھی زیادہ ریشمی و غیر ریشمی پارچات کے جوڑے دیئے جاتے اسی طرح ابا جان کے ہمشیرے کی بیوی جو ہمارے کسی بہن اور بھائی کو رکھ کر رخصت ہوئی۔تو اسے بھی یہ بدوگی دی گئی۔جس میں امی جان کے اپنے اعلیٰ قیمتی پوت اور کمخواب کے جوڑے بھی تھے۔اور مکان بنانے کیلئے روپیہ بھی دیا گیا۔مگر کچھ عرصہ بعد اس نے آکر بتایا کہ اس کا خاوند سب کچھ پار چات تک فروخت کر کے نشوں میں اجاڑ چکا ہے۔ابا جان اسے بہت ناراض ہوئے۔بعد میں معافیاں مانگنے پر معاف بھی کر دیا اور پھر اس کی بیوی جب کسی اور بچے کو پال کر گئی۔تو پھر اسے اسی طرح بہت کچھ دیا۔اس کے خاوند نے عہد کیا کہ میں ضائع نہیں کروں گا۔لیکن پھر اس نے وہی کچھ کیا۔مگر باوجود اس کے ایسے رویہ کے ابا جان نے آخر تک اس کا ہر طرح سے خیال رکھا۔اس کی ضروریات کو پورا کرتے رہے، اسے سمجھاتے بھی تھے بختی بھی کرتے تھے مگر پھر کہتے تھے کہ میرا دودھ بھائی ہے۔یہی رحمدلی کا جذ بہ جانوروں کے ساتھ بھی نمایاں نظر آتا تھا۔اکثر چڑیوں وغیرہ کو دانہ اپنے ہاتھ سے ضرور ڈالتے تھے۔قادیان میں ہمارے ہاں بلیاں تھیں۔ان کیلئے قصائی کے ہاں سے با قاعدہ چھیچھڑے آتے تھے۔دودھ مقرر تھا۔آپ خود سامنے کھلواتے اور بے حد خیال رکھتے۔ماڈل