اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 176 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 176

176 باوجود یکہ آپ ایک بہت بڑے رئیس کے بیٹے تھے اور جب انہوں نے ہوش کی آنکھیں کھولیں تو نوکروں اور خدام کی ایک فوج کو اپنے گرد پا یا اور تعم اور تعیش کے سب لوازمات موجود تھے۔لیکن وہ دل کے بڑے ہی غریب تھے۔ساری عمر وہ غریبوں سے محبت کرتے رہے اور غریب ہی ان کے دوست تھے۔امیروں سے انہوں نے کبھی سروکار نہ رکھا۔طالب علمی میں بھی ان کا یہی حال تھا اور جب بڑے ہوئے اور دولت مند بھی ہوئے تب بھی ان کا یہی حال رہا۔وہ بڑے فخر اور خوشی سے مجھے سنایا کرتے تھے کہ جب ان کے والد محترم حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ نے محلات کی زندگی پر لات مار کر اور بھر پور جوانی میں عیش وعشرت کے سب سامانوں کو تیاگ کر خدا کے مسیح کے در کی غلامی اختیار کی۔اور قادیان میں آکر رہائش پذیر ہو گئے۔تو انہیں ایک معمولی سامکان رہائش کیلئے ملا۔وہ مکان اتنا چھوٹا تھا کہ پہلے ہم تینوں بھائی یعنی میاں عبدالرحمن خان صاحب مرحوم خود میاں صاحب اور میاں عبدالرحیم خان صاحب) زمین پر سوتے تھے۔پھر ہمیں ایک چار پائی دی گئی۔جس پر میں اور میرے چھوٹے بھائی میاں عبدالرحیم خان صاحب خالد ا کٹھے سوتے تھے۔یہ شاید انہی قربانیوں کی برکت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ اور ان کی اولا د کو دین و دنیا کی نعمتوں سے نوازا۔حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب خدا تعالیٰ کے نہایت شاکر بندے تھے اور غالبا یہ ان کے کیریکٹر کا سب سے نمایاں پہلو تھا۔میں نے ان پر تنگی کی حالتوں کو بھی دیکھا اور اس حالت کو بھی جب ان کی سالانہ آمدنی ہزاروں تک پہنچ چکی تھی۔وہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے سے نہیں تھکتے تھے۔میں نے بلا مبالغہ ان گنت مرتبہ ان کی زبان سے یہ فقرہ سنا کہ ملک صاحب! اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑے ہی احسان کئے ہیں۔میں ان احسانات کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا۔ان کے عبد شکور ہونے کا بہترین منظر میں نے ان کی لمبی اور خطرناک بیماری میں دیکھا۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس خطرناک اور لمبی بیماری کے دوران جب کہ ان کے جسم کا کوئی ایک انچ بھی ایسا نہ رہا تھا۔جس کوٹیکوں سے نہ چھیدا گیا ہو اور ڈاکٹر صاحبان ان کے دل کی بیماری کے پیش نظر یہ بات سننے کیلئے بھی تیار نہ تھے کہ نواب صاحب موصوف چند دن سے زیادہ زندہ بھی رہ سکتے ہیں میں نے ایک دفعہ بھی ان کے منہ سے کوئی شکایت کا کلمہ نہ سنا۔اور بیسیوں مرتبہ میں نے اس بیماری میں ان کے منہ سے یہ فقرہ سنا کہ خدا کے مجھ پر بے انتہاء احسان ہیں۔جن کا میں شکر ادا نہیں کر سکتا۔