اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 177 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 177

177۔آپ پنجوقتہ نماز با جماعت کے نہایت شدت کے ساتھ پابند تھے۔میں نے اپنی زندگی کے پچاس سال ان کے ساتھ گزارے میں ایمانداری کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے آپ کی طرح حمول اور تم میں پرورش پایا ہوا نماز کا ایسا پابند انسان ساری عمر میں نہیں دیکھا۔وہ جہاں کہیں ہوتے تھے۔یہاں تک کہ جب وہ سیر یا بحالی صحت کیلئے پہاڑ پر بھی جایا کرتے تھے تو ان کی کوٹھی کا ایک کمرہ ہمیشہ نماز با جماعت کیلئے مخصوص ہوتا تھا۔نہایت با قاعدگی سے پانچ وقت اذان ہو کر نماز با جماعت ہوتی تھی۔انہوں نے زندگی کے آخری سال لاہور میں گزارے اور شاید سارے شہر لاہور میں صرف ان کی کوٹھی ہی تھی۔جہاں پانچ وقت با جماعت نماز کے علاوہ ماڈل ٹاؤن کے احباب نماز جمعہ بھی ادا کرتے تھے اور وہاں حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس بھی ہوتا تھا۔جن حالات میں آپ نے پرورش پائی ان کو دیکھتے ہوئے ان کا ایسا پابند صوم صلوۃ ہونا ان کے باخدا انسان ہونے کی ایک زندہ دلیل ہے۔ان کا ایک نمایاں وصف مہمان نوازی بھی تھا۔وہ اپنے احباب کی دعوتیں کر کے جتنے خوش ہوتے تھے اور کسی بات سے اتنا خوش نہ ہوتے۔اور ظاہر ہے کہ مہمان نوازی کو اسلامی اخلاق میں ایک بہت بلند مقام حاصل ہے۔مرحوم دل کے غریب، غریب دوست اور غریب نواز انسان تھے۔لیکن حق بات کہنے میں وہ ایک نڈر مومن تھے۔اور حق گوئی میں وہ کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتے تھے۔لیکن یہی بیباک حق گوئی جب کبھی جائز حدود سے تجاوز کر کے کسی کی دل آزاری کا موجب ہوتی تھی۔تو اپنی غلطی کا اعتراف کرنے اور جس بھائی کو ان سے تکلیف پہنچی ہوتی تھی۔اس سے معافی مانگنے میں بھی وہ ویسے ہی دلیر تھے۔بعض صورتوں میں انہیں اپنے ادنی ملازمین سے بھی معافی مانگنے میں عار نہ ہوتی تھی۔ان کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی۔کہ ان کی اولاد د بیدار اور سلسلہ کی خادم ہو اور جس طرح ان کا اپنا جسمانی رشتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہے۔اسی طرح ان کی ساری اولا دکا بھی خونی تعلق حضور علیہ السلام سے قائم ہو۔اس خواہش کے مدنظر انہوں نے اپنے سارے بچوں اور بچیوں کے رشتے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں کئے۔اپنے بچوں کیلئے رشتہ کے انتخاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تعلق کے مقابلہ میں کسی دنیوی دولت یا و جاہت کو پر کاہ کے برابر نہیں سمجھتے تھے۔