اصحاب احمد (جلد 12) — Page 175
175 تھے۔جب فروری 1917ء میں میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کی شادی ہو گئی۔تو کالج کی تعلیم چھوڑ کر آپ مستقل طور پر قادیان تشریف لے گئے۔حضرت نواب صاحب مرحوم و مغفور نے اپنی زندگی میں لاکھوں کی جائیداد پیدا کی اور یہ ساری جائیداد اپنی کوشش اور ہمت اور محنت سے ہی پیدا کی۔اس جائیداد کے منتظم اور منصرم بھی وہ خود ہی تھے۔یہاں تک کہ اپنی لمبی اور خطرناک بیماری میں بھی اپنی جائیداد اور دیگر کاموں کی خود ہی نگرانی کرتے تھے۔ان کے صاحبزادگان ان کاموں کے سرانجام دینے میں کبھی کبھی ان کی کچھ مد دضرور کر دیا کرتے تھے۔انہوں نے مجھ سے کئی دفعہ فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں خوب دولت پیدا کروں اور خدا کی راہ میں خوب چندے دوں۔اور مسیح کی بیٹی کی خوب خدمت کروں۔ان کے دل میں سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ اپنی بیگم کی ہر طرح سے خدمت کریں اور انہیں خوش رکھیں اور وہ صرف اس لئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لخت جگر ہیں۔یہ سبق انہوں نے اپنے عالی مرتبت والد ماجد سے سیکھا تھا۔آپ نے مال پیدا کرنے میں بے شک بڑی محنت اور کوشش کی لیکن ان کی زندگی میں میں نے بعض واقعات ایسے دیکھے جن سے میں نے محسوس کیا کہ بچے اور پکے مومن کی طرح انہیں اپنی ذات کیلئے مال سے محبت نہ تھی۔چنانچہ پچھلے دنوں ان کا کئی لاکھ کا کیم جانچ پڑتال میں آکر تمام کا تمام کٹ گیا اور صرف ساڑھے چار ہزار روپیہ رہ گیا۔جب ان کے وکیل مکرمی شیخ نوراحمد صاحب نے مجھے یہ بات بتلائی اور ساتھ ہی مجھ سے یہ بھی کہا کہ اس کلیم کے بحال ہونے کی بھی بظاہر کوئی امید نہیں تو میں سخت گھبرایا اور یہ خیال کر کے کہ دل کی ایسی خطرناک بیماری کے دوران ایسی وحشت ناک خبر کہیں ان کیلئے مہلک ثابت نہ ہو۔میں اسی وقت ان کو تسلی دینے کیلئے ماڈل ٹاؤن ان کی کوٹھی پر پہنچا۔لیکن جب میں وہاں پہنچا تو مرحوم کو معمول کی طرح مطمئن پایا۔اور جب میں فکر مند انہ لہجہ میں ان سے اظہار ہمدردی کرنے لگا اور کچھ تجاویز جو کلیم کی بحالی کیلئے میرے ذہن میں تھیں ، ان سے ان کا ذکر کرنے لگا۔تو انہوں نے نہایت بے پروائی سے فرمایا کہ ملک صاحب! کوئی فکر کی بات نہیں۔سب معاملہ اپنے وقت پر ٹھیک ہو جائے گا۔چنانچہ اپیل کی آخری عدالت میں ان کا سارا کلیم بحال ہو گیا۔گوظاہری حالات میں اس کے بحال ہونے کی کوئی امید نہ تھی اس بارہ میں میری اس گفتگو کے وقت محترم صاحبزادہ مرزا داؤ د احمد صاحب بھی موجود تھے۔