اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 36 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 36

36 منع نہ ہونے پر چوہدری صاحب کی حساسیت آڑے آئی۔اس کا ذکر اپنے والد ماجد کے تعلق میں ہم پہلے پڑھ چکے ہیں وبس۔لیکن آپ کی اہلیہ محترمہ دین کے معاملہ کو اپنے اور اللہ تعالیٰ کے مابین سمجھتی تھیں اور یہ درست تھا۔علاوہ ازیں کوائف بالا سے یہ امر بھی روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ چوہدری صاحب نے نہایت مخالف حالات کو دیکھتے ہوئے بھی احمدیت قبول کی ، یہ آپ کی اعلیٰ درجہ کی جوانمردی اور مردانگی تھی۔ورنہ ایک دنیا دار، جاہ طلب اور دُنیا کا پروانہ ہرگز ایسا کردار ظاہر نہ کر سکتا تھا کہ جس سے لوگ ناراض ہوں اور مقبولیت میں کمی واقع ہو۔والدہ محترمہ کا الحب الله والبغض الله کا نظارہ آپ دیکھ چکے ہیں۔عشق الہی میں ان کی ترقی کے متعلق جناب چوہدری صاحب رقم فرماتے ہیں: د ممکن ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے قیام سیالکوٹ کے دوران میں والدہ صاحبہ کو اس کے بعد بھی حضور کی زیارت نصیب ہوئی ہو۔لیکن حضور کے سیالکوٹ سے واپس تشریف لے جانے کے بعد والدہ صاحبہ کو پھر کوئی موقعہ حضور کی حیات میں حضور کی زیارت کا میٹر نہیں آیا۔دراصل تو انہوں نے عہد اخلاص و وفا رؤیا میں ہی باندھا پھر بیعت کے الفاظ میں اس کی تجدید کی اور اس کی ظاہری شہادت قائم کی اور پھر آخری سانس تک اُسے اس طریق سے نباہا کہ جیسے اس کا حق تھا۔بیعت کے بعد ہر دن جو اُن پر چڑھا۔بلکہ ہر لحظہ جو ان پر گزرا۔وہ ان کے ایمان اور اخلاص کی ترقی پر شاہد ہوا۔ان کا ایمان شروع ہی سے عشق کی جھلک اپنے اندر رکھتا تھا۔اور رفتہ رفتہ اس عشق نے اس قدر ترقی کی کہ انہیں ہر بات میں ہی اللہ تعالیٰ کا جلال اور قدرت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت نظر آتی تھی۔آپ فرماتی ہیں کہ : مجھے کوئی تعلیم دینی یا دنیوی نہ دی گئی تھی۔اور تا حال ظاہری علوم مروجہ سے بے بہرہ اور کوری ہوں۔نہ لکھ سکتی ہوں نہ پڑھ سکتی ہوں۔با ینہمہ مجھے اپنے خالق (و) مالک حقیقی پر کامل ایمان نصیب رہا ہے۔اور نادانی کی عمر سے میرا پختہ عقیدہ یہی چلا آیا ہے کہ سبھی قدرتیں حضرت رب العالمین کو حاصل ہیں اور کوئی دوسری طاقت یا ہستی کو یہ قدرت و اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی کو نفع یا نقصان بغیر اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہنچا سکے۔1766