اصحاب احمد (جلد 11) — Page 37
37 ال محترم چوہدری صاحب بیان کرتے ہیں : بیعت کے بعد ان کے عمل میں بھی جلد جلد تبدیلی ہوتی گئی۔اصل تربیت تو اُن کی اللہ تعالیٰ نے رویا اور کشوف کے ذریعہ ہی جاری رکھی۔لیکن ظاہر میں بھی جب کبھی کوئی حکم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا حضور کے وصال کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ یا اُن کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا اُن تک پہنچ جا تا۔وہ فورا مستعدی سے اس پر عمل پیرا ہو جاتیں۔اُن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے طبیعت بالکل جادہ تسلیم ورضا پر چلنے والی عطا فرمائی تھی۔اُن کی طبیعت میں ان امور کے متعلق چون و چرا پید ا ہوتا ہی نہیں تھا۔تھا۔“ صالح اولاد: ان بزرگوں کو اللہ تعالیٰ نے صالح اور اعلیٰ درجہ کی خادم دین اولاد سے نوازا۔جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب صحابی ہیں اس لئے ان کا تذکرہ الگ کیا جارہا ہے۔دیگر تینوں بھائیوں کو بھی خدمات سلسلہ کا موقعہ خوب ملا۔یا مل رہا ہے۔چوہدری شکر اللہ خاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ڈسکہ کے امیر جماعت رہے۔تقسیم ملک کے وقت اسلامی تعلیم کے مطابق آپ نے غیر مسلموں کی حفاظت کا کام بہترین رنگ میں کیا۔اور آج تک نہایت خلوص سے غیر مسلم اس کا ذکر کرتے ہیں۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقعہ پر آپ کے متعلق فرمایا : 1066 چوہدری شکر اللہ خاں صاحب۔۔۔سلسلہ سے دیوانہ وار محبت رکھتے تھے۔ان کی بیوی جو چوہدری بشیر احمد صاحب کی بہن ہیں ، احمدیت سے ایک والہانہ محبت رکھتی تھیں۔اس لئے مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بچوں کی بھی حفاظت کرے گا، جبکہ ان کے بھائی بھی بڑے مخلص ہیں۔کیونکہ ہم عصر لوگوں کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔چوہدری عبداللہ خاں صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ کو قصور۔جمشید پور میں بھی خدمات سلسلہ کے مواقع حاصل ہوئے۔بعد تقسیم ملک بطور امیر جماعت کراچی نا قابل فراموش خدمات کی توفیق عطا ہوئی اور ان کی زیر قیادت یہ جماعت صف اول میں شمار ہونے لگی۔اور ان کی ہمدردی خلائق اور مروّت کے نقوش لوح قلوب سے کبھی محو نہ ہو سکیں گے۔محترم چوہدری اسد اللہ خاں صاحب کو بطور قانونی مشیر ، وارڈن احمد یہ ہوٹل اور اب سالہا سال سے لاہور جیسی بڑی اور ممتاز جماعت اور