اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 378 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 378

378 دوسروں کو بھی تحریک ہو اور کام کر کے دکھا ئیں۔دینی خدمات میں انکی طرح حصہ لیں۔“ والدہ محترمہ کے متعلق تعزیت نامہ د, (الفضل ۱۹۲۷۔۱۔۱۱) سید نا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذیل کا تعزیت نامہ شائع ہوا:۔۔۔عزیزم چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب کی والدہ صاحبہ کی وفات کی خبر آئی ہے۔اور افسوس کہ اس وقت میں مرکز سے دور ہوں اور آسانی سے میرا وہاں پہنچنا اور جنازہ میں شامل ہونا مشکل نظر آ رہا ہے۔جس کا مجھے سخت افسوس ہے میں نے ابھی خبر سنتے ہی موٹر میں ایک آدمی کو میر پور خاص بھجوا دیا ہے کہ فون کر کے دریافت کرے کہ کیا میرا وقت پر پہنچنا ممکن ہے یا نہیں؟ اگر ایسا ہو سکا تو میری یہ خواہش کہ میں ان کا جنازہ پڑھا کر انہیں دفن کر سکوں، پوری ہو جائیگی۔ورنہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے سامنے سرتسلیم خم ہے۔مرحومہ کا اخلاص اس میں کوئی شک نہیں کہ مرحومہ کے خاوند چوہدری نصر اللہ خاں صاحب مرحوم ایک نہایت مخلص اور قابل قدر احمدی تھے اور انہوں نے سب سے پہلے میری آواز پر لبیک کہی اور اپنی زندگی وقف کی اور قادیان آکر میرا ہاتھ بٹانے لگے۔اس لئے ان کے تعلق کی بناء پر ان کی اہلیہ کا مجھے پر اور میری وساطت سے جماعت پر ایک حق تھا۔پھر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عزیزم چو ہدری ظفر اللہ خان صاحب جنہوں نے اپنی عمر کے ابتدائی حصہ سے ہی رشد و سعادت کے جو ہر دکھائے ہیں اور شروع ایام خلافت سے ہی مجھ سے اپنی محبت اور اخلاص کا اظہار کرتے چلے آئے ہیں۔خاکسار مئولف اصحاب احمد عرض کرتا ہے کہ حضور اسوقت ناصر آباد اسٹیٹ ضلع تھر پارکر ( سندھ) میں قیام فرما تھے۔خاکسار پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر ہمراہ تھا۔حضور کی یہ بھی خواہش تھی کہ ممکن ہو تو حیدر آباد دسندھ سے لاہور تک ہوائی جہاز میں تشریف لے جائیں۔لیکن موسم گرما تھا سفر طویل اور وقت قلیل تھا۔اس لئے آپ پہنچ نہ سکتے تھے۔