اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 377 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 377

377 کرنے کے بعد فرمایا۔ناقل ) دوسرے دوست چوہدری نصر اللہ خاں صاحب تھے جو گواتنے پرانے احمدی نہ تھے۔لیکن سلسلہ کی خدمات میں بہت آگے نکل گئے تھے۔میں نے جب ایک دفعہ اعلان کیا کہ سلسلہ کیلئے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو دین کی خدمت کیلئے اپنے اوقات کو وقف کریں تو اس پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے چوہدری صاحب ہی تھے۔جو ادب اور احترام ان میں تھا۔وہ بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔کامیاب وکیل تھے۔صاحب جائیداد تھے۔زمین کافی تھی۔اسلئے یہاں آزادی سے گزارا کرتے تھے مگران کی فرمانبرداری کو دیکھا ہے کہ گزارا لینے والوں میں بھی وہ فرمانبرداری نظر نہیں آتی۔ایک دفعہ ان کے بیٹے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے انہیں جلسہ کے موقعہ پر کسی دوست کے ہاں اپنے ساتھ ٹھہرنے کیلئے کہا۔تو چوہدری صاحب نے کہا میں تو یہیں عام لوگوں میں ٹھہروں گا۔دال روٹی کھاؤں گا۔زمین پر سوؤں گا۔پہلے لوگوں نے پلاؤ کھا کھا کر ایمان خراب کر لیا۔میں اپنا ایمان خراب نہیں کرنا چاہتا۔چنانچہ وہ عوام میں ہی ٹھہرے۔ان میں بہت ہی اخلاص تھا ایک دفعہ کوئی معاملہ میرے پاس لائے اور کہا یہ بات یوں ہونی چاہیے میں نے کہا یوں نہیں ہونی چاہئے۔دوسرے دوستوں نے اس پر رائے زنی کر کے کہا کہ اسے پھر دوبارہ پیش کرو تو کہا۔میں تو یہاں ایمان لینے آیا ہوں۔ایمان ضائع کرنے نہیں آیا۔جب ایک دفعہ پیش کرنے سے حضرت صاحب نے فرما دیا ہے کہ یہ بات یوں نہیں چاہیے تو پھر میرا تمہارا کیا حق ہے اس کے خلاف بولنے کا۔باوجود کامیاب وکیل اور صاحب جائیداد ہونے کے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں آگئے اور سلسلہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔تو ایک پرانا خادم سلسلہ ہم سے اٹھ گیا۔آئندہ نسلوں کی یاد کیلئے اور انہیں بتانے کیلئے کہ ہم میں ایسے مخلص موجود ہیں۔یہ چند کلمات کہے ہیں تا