اصحاب احمد (جلد 11) — Page 379
379 مرحومہ ان کی والدہ تھیں۔اور اس تعلق کی بناء پر ان کا مجھ پر حق تھا لیکن باوجود اس کے کہ اکثر عورتوں کا تعلق طفیلی ہوتا ہے۔یعنی اپنے باپ یا بیٹے یا بھائی کے سبب سے ہوتا ہے وہ اپنے مرحوم خاوند سے پہلے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئیں۔ان سے پہلے انہوں نے بیعت خلافت کی اور ہمیشہ غیرت وحمیت کا ثبوت دیا۔چندوں میں بڑھ بڑھ کر حصہ لینا۔غرباء کی امداد کا خیال رکھنا ان کا خاص امتیاز تھا۔دعاؤں کی کثرت اور اس کے نتیجہ میں سچی خوابوں کی کثرت سے خدا تعالیٰ نے ان کو عزت بخشی تھی۔انہوں نے خوابوں سے احمدیت قبول کی اور خوابوں سے خلافت ثانیہ کی بیعت کی۔مرحومہ کی وائسرائے ہند سے گفتگو مجھے ان کا یہ واقعہ نہیں بھول سکتا جو بہت سے مردوں کے لئے بھی نصیحت کا موجب بن سکتا ہے کہ گزشتہ ایام میں جب احراری فتنہ قادیان میں زوروں پر تھا اور ایک احراری ایجنٹ نے عزیزم میاں شریف احمد صاحب پر راستہ میں لاٹھی سے حملہ کیا تھا۔جب انہیں ان حالات کا علم ہوا تو انہیں سخت تکلیف ہوئی۔بار بار چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے کہتی تھیں۔ظفر اللہ خان میرے دل کو کچھ ہوتا ہے۔اماں جان ( حضرت ام المومنین ) کا دل تو بہت کمزور ہے۔ان کا کیا حال ہو گا۔کچھ دنوں بعد چوہدری صاحب گھر میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم ہوا جیسے مرحومہ اپنے آپ سے کچھ باتیں کر رہی ہیں۔انہوں نے پوچھا کہ بے بے جی کیا بات ہے تو مرحومہ نے جواب دیا کہ میں وائسرائے سے باتیں کر رہی تھی۔چوہدری صاحب نے کہا کہ آپ سچ سچ ہی کیوں باتیں نہیں کر لیتیں۔انہوں نے کہا۔کیا اس کا انتظام ہو سکتا ہے؟ چوہدری صاحب نے کہا کہ ہاں ہو سکتا ہے۔اس پر انہوں نے کہا بہت اچھا پھر انتظام کر دو۔قرآنی تعلیم کے مطابق ان کی عمر میں وہ پر دہ تو تھا ہی نہیں جو جوان عورتوں کے لئے ہوتا ہے۔وہ وائسرائے سے ملیں اور چوہدری صاحب ترجمان بنے۔لیڈی ولنگڈن بھی پاس تھیں۔چوہدری صاحب نے صاف کہہ دیا کہ میں کچھ نہیں کہوں گا۔جو کہنا ہو خود کہنا۔چنانچہ مرحومہ نے لارڈ ولنگڈن سے نہایت جوش سے کہا کہ میں گاؤں کی رہنے والی عورت ہوں۔میں نہ انگریزوں کو جانوں اور نہ ہی ان کی حکومت کے اسرار کو۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا تھا کہ انگریزی قوم اچھی قوم ہے اور ہمیشہ تمہاری قوم کے متعلق دل سے دعائیں نکلتی تھیں۔جب کبھی تمہاری قوم کے لئے مصیبت کا وقت آتا تھا۔رو رو کر دعائیں کیا کرتی تھی کہ اے