اصحاب احمد (جلد 11) — Page 376
376 (۵) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے رقم فرمایا: ۲۷ / جولائی ۱۹۳۰ء سے خان ذوالفقار علی خان صاحب کو ان کی خدمات سے سبکدوش کیا جاتا ہے۔کیونکہ ان کی خدمات کی رام پورسٹیسٹ کو ضرورت تھی۔اس موقعہ پر میں خاں صاحب کی ان خدمات سلسلہ کا شکریہ (ادا) کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جو انہوں نے دس سال تک با وجود پیرانہ سالی کے ادا کیں۔۱۹۱۸ء میں جبکہ میں نے وقف زندگی کا اعلان کیا تھا۔چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم و مغفور اور خان صاحب دونوں نے اپنی زندگی وقف کی تھی۔چوہدری صاحب نے اپنی وفات تک جس اخلاص سے کام کیا وہ آئندہ نسلوں کیلئے بطور نمونہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ آئندہ نو جوانوں کو انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔خاں صاحب نے بھی نہایت عسرت سے گزارا کر کے جس اخلاص سے کام کیا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسکی قدر کرے گا اور انکی یہ قربانی ضائع نہیں جائے گی۔اب بھی وہ میری اجازت اور میرے منشاء کے مطابق رامپور جارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انہیں وہاں بھی سلسلہ کی خدمات کی توفیق عطا فرما تا رہے۔۔۔۔۔خاکسار مرزا محمود احمد (الفضل ۱۹۳۰-۸-۲۱) (۶) ۲۷ / دسمبر ۱۹۲۶ء کو جلسہ سالانہ میں حضور نے اپنی تقریر میں فرمایا :۔قبل اس کے کہ میں اصل تقریر کو شروع کروں۔میں ان دوستوں کیلئے اپنے جذبات کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں جو اس سال ہم سے جدا ہو گئے ہیں اور جو سلسلہ کے عمود تھے۔جدائی ایک تلخ چیز ہے لیکن خدا کا قانون بھی ہے۔اسلئے ہمیں وہ تلخ گھونٹ پینا ہی پڑتا ہے۔بیشک بسا اوقات جدائی ایک رحمت کا پڑتا بسا موجب ہو جاتی ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے قانون کا شکوہ نہیں کرتے۔لیکن یہ بھی اسی کا قانون ہے کہ مفید وجود اُٹھ جانے سے ہر دل غم محسوس کرتا ہے۔اس دفعہ ہمارے سلسلہ میں سے چند دوست ہم سے جدا ہو گئے۔جن کے ساتھ بعض خصوصیات وابستہ تھیں (ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کا ذکر