اصحاب احمد (جلد 11) — Page 375
375 دل کی غربت ضرور قائم رہے۔بلکہ بڑھتی رہے کیونکہ اگر یہ نہ ہو تو دنیوی مال 1226 و دولت ایک لعنت ہے۔(۴) شوری ۱۹۲۵ء میں بعض فتنہ پردازوں نے بعض ممبران شورای کو ورغلا کر ان سے نامناسب اعتراضات کروائے۔چونکہ طریق نامناسب تھا۔اسلئے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک طویل تقریر میں ایسے اعتراضات کے نقصانات واضح کرتے ہوئے بتایا کہ کسی نقص کی اصلاح کا کیا طریق ہے اور یہ کہ سوالات کی غرض اصلاح ہونی چاہیے۔اور ہر حالت میں فتنہ انگیزی سے بچنا اور دشمن کی بات پر یقین نہ کرنا چاہیے۔نیک خلفی ترک نہ کریں۔جو اعتراض کرتے ہیں انکے تقویٰ و طہارت کی حالت دیکھو۔اور بتایا کہ الزام لگا نیوالے خود مجرم ہوتے ہیں۔اس تعلق میں حضور نے فرمایا ( اور اس سے حضرت چوہدری صاحب اور ان کے رفقاء کار کے اعلیٰ مقام کا علم ہوتا ہے ): بہت سے کام ایسے ہیں جو کسی ایک آدمی کے بطور خود کرنے کے نہیں۔بلکہ وہ کام ایک کمیٹی میں پاس ہوتے ہیں جس کے میاں بشیر احمد صاحب، قاضی امیرحسین صاحب ، مفتی محمد صادق صاحب ،مولوی شیر علی صاحب ،خلیفہ رشید الدین صاحب ، ذوالفقار علی خان صاحب ، چوہدری فتح محمد صاحب ، چوہدری نصر اللہ خان صاحب ، میر محمد اسحاق صاحب ، مولوی سید سرور شاہ صاحب ، میر محمد اسماعیل صاحب ،سید عبدالستار شاہ صاحب ، ڈاکٹر کرم الہی صاحب ممبر ہیں۔کیا یہ سب آدمی مل کر کوئی بددیانتی کریں گے۔میری عقل تو اس بات کو نہیں مان سکتی چوہدری نصر اللہ خاں صاحب سلسلہ کی خدمت کے لئے کام چھوڑ کر یہاں آگئے ہیں۔کوئی تنخواہ نہیں لیتے بلکہ سال میں چار پانچ سو روپیہ چندہ دیتے ہیں۔کیا وہ یہاں خائنوں کے ساتھ مل کر اپنا ایمان تباہ کرنے کے لئے رہتے ہیں۔ان حالات کو مد نظر رکھ کر سوالات کو دیکھو۔گویا یہ مل کر فیصلہ کرتے ہیں کہ فلاں نرس جو آئی ہے اسے زیور بنا دیا جائے۔اگر کوئی یہ خیال کر سکتا ہے کہ یہ عیاش اور او باش ہیں تب تو اس قسم کا فیصلہ کر سکتے ہیں ورنہ ان کے متعلق کس طرح یہ سوال ہو سکتا ہے۔“ (رپورٹ صفحہ ۳۶)