اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 319 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 319

319 ”جو شخص و ید اور عابد لوگوں کی دید کے مطابق بنائی ہوئی کتابوں کی بے عزتی کرتا ہے اس وید کی برائی کرنے والے منکر کو ذات ، جماعت اور ملک سے نکال دینا چاہیے (ستیارتھ پرکاش طبع چہارم صفحہ ۵۹) روز نامہ ملاپ نے شرانگیزی کے طور پر لکھا کہ : گورنمنٹ کا فرض ہے کہ جن علاقوں سے ہندوؤں کو جلا وطن کیا گیا ہے ان علاقوں پر چڑھائی کر کے ان علاقوں کو انگریزی علاقہ کے ساتھ شامل کر لینا چاہیے“ ایک سرحدی نامہ نگار نے انگریزی روز نامہ ٹریبیون کے اس بیان کی تردید کی کہ علاقہ سرحد کے ہند و معمولی سامان لیکر نکلے ہیں اور اپنی جائیداد سے محروم رہے ہیں اور بتایا کہ ان جانے والوں کا قرض ادا کیا گیا۔اور اگر وہ مقروض تھے تو ان سے قرض کا مطالبہ نہیں کیا گیا اور مسلمان پولیٹیکل افسران نے بھی ان کا خاص خیال رکھا اور مسلح جر گہ حفاظت کے لئے ساتھ آیا۔مزید لکھا کہ چونکہ منظم جماعت احمدیہ نے چند دن میں ہی مسلمانوں میں بیداری پیدا کر دی ہے اس لئے یہ لوگ حضرت امام جماعت احمدیہ پر الزام لگاتے ہیں۔حالانکہ ان کی تلقین کی وجہ سے سرحدی لوگوں نے اپنا جوش دبائے رکھا ور نہ اور ہی گل کھلتے۔( الفضل ۲/۸/۲۷ و ۱۹/۸/۲۷) روزنامہ انقلاب لاہور نے حضرت امام جماعت احمدیہ کی تعریف کی کہ اس موقعہ پر امام صاحب مسجد لندن کو ہدایات دیں اور انکی مساعی سے پارلیمنٹ میں بھی سوال اٹھا۔اور وزیر ہند کو راجپال کے تعلق میں محضر نامہ بھجوانے کے لئے مختلف النسل مسلمانان مقیم انگلستان کے دستخط حاصل کئے جار ہے ہیں۔(۳۸-۲۷ بحواله الفضل ۲۷-۸-۱۲ صفحه ۴ ) قائم مقام چیف جج مسٹر جسٹس براڈوے اور مسٹر جسٹس سکیمپ نے ورتمان کے مقدمہ میں مضمون نگار اور ایڈیٹر کوعلی الترتیب ایک سال قید با مشقت اور پانچ صد روپیہ جرمانہ اور چھ ماہ قید سخت اور دوصد روپیہ جرمانہ کی سزادی۔اس فیصلہ سے ثابت ہوا کہ دفعہ ۱۵۳الف کی جو تشریح جسٹس دلیپ سنگھ نے کی تھی غلط تھی اور مسلمانوں کا یہ مطالبہ بجا تھا کہ وہ صوبہ کی اعلیٰ عدالت کی جی کے اہل نہیں۔( الفضل ۲۷-۸-۱۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فراسة المومن کو اللہ کا نور قرار دیا ہے۔انبیاء وخلفاء راشدین فراست سے بہرہ وافر پاتے ہیں۔جب لوہا گرم تھا تو اسے حضرت امام جماعت احمدیہ نے