اصحاب احمد (جلد 11) — Page 318
318 معزز ” ہمدرد دہلی کے نامہ نگار خصوصی شملہ نے زیر عنوان ” قادیانی حضرات کی مساعی جمیلہ“ لکھا کہ: (الفضل ۳۰/۹/۲۷) نا شکر گزاری ہوگی اگر جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور ان کی منظم جماعت کا ذکر ان سطور میں نہ کریں جنہوں نے اپنی تمام تر تو جہات بلا اختلاف عقیدہ ہم مسلمانوں کی بہبودی کے لئے وقف کر دی ہیں۔یہ حضرات اس وقت اگر ایک جانب مسلمانوں کی سیاسیاست میں دلچسپی سے حصہ لے رہے ہیں تو دوسری طرف وہ مسلمانوں کی تنظیم و تبلیغ و تعلیم و تجارت میں انتہائی جدوجہد سے منہمک ہیں۔اور وہ وقت دور نہیں جبکہ اسلام کے اس منظم فرقہ کا طرز عمل سواد اعظم کے لئے بالعموم اور اُن اشخاص کے لئے بالخصوص جو بسم اللہ کے گنبدوں میں بیٹھ کر خدمات اسلام کے بلند بانگ و در باطن پیچ دعاوی کے خوگر ہیں مشعل راہ ثابت ہو گا۔جن اصحاب کو جماعت قادیان کے اس جلسہ عام میں جس میں مرزا صاحب موصوف نے اپنے عزائم اور طریق کار پر اظہار خیالات فرمایا ، شرکت کا فخر حاصل ہوا ہے۔وہ ہمارے خیال کی تائید کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔“ ( الفضل ۲۷-۱۰-۷) حضور کی تحریک کا پٹھانوں پر بھی بہت اثر ہوا۔چنانچہ روزنامہ ”ملاپ نے لکھا کہ صوبہ سرحد کے خوانین نے تاجر ہندوؤں کو امام جماعت احمدیہ کی تحریرات کے اثر سے اپنے علاقہ سے نکال دیا ہے۔حضور نے جوا با بتایا کہ سرحدی لوگوں کو اسلامی شعار کی بہت غیرت ہے۔چنانچہ گذشتہ ایام میں ایک سپاہی نے ایک انگریز کو محض قبلہ رخ پاؤں کرنے کی وجہ سے قتل کر دیا تھا۔لیکن ہم نے بہت کوشش کی ہے کہ وہ لوٹ مار نہ کریں اور یہ خوشکن تغیر ہے کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔البتہ ہماری یہ تحریک جاری رہے گی کہ وہاں مسلمانوں کی دکانیں کھلیں اور بالمقابل ہندوؤں سے چھوت چھات کی جائے اور فرمایا کہ اسوقت افغانستان ، ہزارہ اور روس کی کروڑوں روپے کی تجارت ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے ہم نے وہاں کے علما اور پٹھانوں کو اس امر پر آمادہ کر لیا ہے کہ وہ ہندوؤں کو نکلنے کے لئے نہ کہیں۔بریکار ہونے کے باعث ہند و خود ہی نکل جائے۔یہ مشورہ ہمارے مذہب کے مطابق ہے ورنہ پنڈت دیا نند کا مذہب یہ ہے کہ :