اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 317 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 317

317 الفضل قادیان ۹/۹/۲۷ و ۶/۹/۲۷ ۱و ۳۰/۹/۲۷) آپ نے ستمبر میں شملہ میں مسلمانوں کی قومی اور انفرادی ذمہ داریوں پر تین گھنٹے تقریر کی جس میں بتایا کہ مسلمان دیگر اقوام سے بہت پیچھے ہیں۔وہ تقویٰ ، خشیت اللہ اور دعا کا طریق ، مضبوطی اخلاق ، بڑوں کا ادب، انسانی ہمدردی ، مسابقت کی روح ،صحت ،صفائی ، پابندی وقت ،خوف ورجا، اتحاد، رواداری اختیار کر کے ترقی کر سکتے ہیں کوئی شخص بیکار نہ رہے۔ایسی کمیٹیاں بنائی جائیں کہ کوئی مسلمان آوارہ نہ رہے۔ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں۔باہمی تنازعات خود طے کئے جائیں۔لڑ پڑیں تو مصالحت کرا دی جائے۔مسلمان اقتصادی، علمی، حرفتی آزادی کے لئے کوشاں ہوں۔تجارت میں ترقی کریں۔فرض تبلیغ ادا کریں۔آخر پر فرمایا کہ ہم جنگل کے درندوں اور سانپوں سے صلح کر سکتے ہیں۔لیکن اس سے ہرگز صلح نہیں ہو سکتی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کو گالیاں دیتا۔اور آپ کی ذات پر حملہ کرتا ہے۔صاحب صدر سر نواب ذوالفقار علی خاں نے آپ کی تقریر کی جامعیت اور مسلمانوں کے لئے بہترین درسی ہونے کی تعریف کی۔( الفضل ۲۷-۹-۲۳) اس عرصہ میں علاقہ یاغستان میں شدید شیعہ سنی فساد ہو گیا۔آئندہ کیلئے مستقل انسداد کے لئے آپ نے تجاویز پیش کیں۔ایک احمدی نے ایک کتاب شائع کی جس کے متعلق سکھوں نے کہا کہ دلآزار ہے۔آپ نے تحقیق کر کے جماعتی طور پر اسے ضبط کرلیا اور اعلان کیا کہ یہ صاحب آئندہ بغیر جماعتی اجازت کے کوئی کتاب شائع نہ کریں اور ضبط شدہ کتاب تلف کر دی جائے۔اور اس کا قابل اعتراض حصہ شائع نہ کیا جائے۔یہ بھی بتایا کہ گو گورنمنٹ کی نظر میں یہ کتاب قابل ضبطی نہ ہو۔تب بھی ہمیں خود دیگر اقوام کے احساسات کا خیال رکھنا چاہیے۔یہ امر افسوسناک ہے کہ ہندو مسلم اتحاد کانفرنس جس میں دونوں قوموں کے لیڈر شریک تھے ناکامی پر مختم ہوئی۔جس کا باعث یہ تھا کہ ہندو اخبارات تیج پرتاپ ، ملاپ وغیرہ نے ہندو لیڈروں پر بہت دباؤ ڈالا اور بتلایا کہ ہندو قوم اس بارہ میں ان کے ساتھ نہیں اور قوم کو تلقین کی کہ وہ اپنے لیڈروں کی بات ہرگز نہ مانیں۔اسلئے گائے اور باجہ بجانے کے مسائل پر یہ کانفرنس ٹوٹ گئی۔مسز سروجنی نائیڈو نے حضرت امام جماعت احمدیہ کے ہاں آپ کے متعلق سیاسی لیڈروں کے خیالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک موقعہ پر قائد اعظم نے نہایت ہی محبت سے اعتراف کے طور پر کہا کہ کام کرنا تو امام جماعت احمدیہ کی جماعت جانتی ہے۔جو نہایت مستعدی سے کسی موقعہ کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتی