اصحاب احمد (جلد 11) — Page 316
فرمائی۔316 (۳) ہر قوم اپنے افراد کی اقتصادی اصلاح کیلئے کا روبار کرنے اور دکانیں کھولنے میں آزاد ہو۔(۴) چونکہ چھوت چھات سے مسلمانوں کو اقتصادی نقصان پہنچا ہے۔اسلئے ہماری تحریک کو کہ مسلمان صرف مسلمان سے سودا سلف خرید میں ، انتظامی طریق نہ سمجھا جائے۔(۵) گائے کشی اور جھٹکے کی آزادی ہو لیکن نمائش نہ کیجائے۔مسلمانوں کو باجہ بجانے پر معترض نہ ہونا چاہیے۔مناسب یہ ہے کہ قانوناً معابد کے سامنے بوقت عبادت باجہ بجانا ممنوع قرار دیا جائے۔(۶) مذہبی امور میں آزادی ہو۔بعض مقامات پر مسلمانوں کو اذان دینے اور مسجد تعمیر کرنے اور بعض ریاستوں میں تبلیغ کرنے کی آزادی نہیں۔(۷) پرائیویٹ ساہوکارہ سے زیادہ تر مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہے اسلئے اسے با قاعدہ کرانے کیلئے قانون بنوایا جائے۔اور مسلم رقبوں میں کو اپر ٹیو بنک کھلوانے کی مساعی کو فرقہ وارانہ منافرت نہ قرار دیا جائے۔( ۸ تا ۱۰) تعداد کے لحاظ سے مسلمانوں کو ملازمتوں میں حصہ دیا جائے اور یہ اصول کونسلوں اور یونیورسٹیوں کی نمائندگی میں رائج ہو۔(۱۱ تا ۱۴) صوبہ سرحد میں دیگر صوبہ جات کے برابر اصلاحات نافذ کی جائیں اور سندھ اور بلوچستان کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے اور دونوں صوبوں میں ہندوؤں کو ہی حقوق دیئے جائیں جو مسلمانوں کو انکی کوانکی اقلیت والے صوبوں میں حاصل ہوں۔وغیرہ۔(۱۶،۱۵) مسلمانوں کے لئے جدا گانہ انتخاب کا طریق جاری رہے جب تک کہ تین چوتھائی اکثریت تخب مسلم ممبران اسمبلی اسکی تبدیلی منظور نہ کرے۔بعد میں مخلوط انتخاب پھر بھی اسی طرح جدا گانہ انتخاب میں تبدیل ہو سکے گا۔یہی طریق مذہبی امور کے فیصلہ کے متعلق ہو کہ جس قوم پر اس کا اثر پڑے۔اسکی تین چوتھائی اکثریت کی منظوری سے منظور ہو اور بعد میں ایسی اکثریت کی منظوری اسے رد کر سکے۔(۱۷ تا ۲۰) یا تو موجودہ مصائب کی ذمہ داری کا فیصلہ کر لیا جائے کہ کس قوم پر ہے یا یہ طے کر لیا جائے کہ گزشتہ واقعات کا آئندہ حوالہ نہ دیا جائے۔ہر صوبہ میں بورڈ بنایا جائے جس کی شاخیں اضلاع میں ہوں جو فرقہ وارانہ فساد کے وقت فورا تحقیق کریں اور ظالم قوم کے سرغنوں کو سزا د میں اور مظلوم لوگوں کو مدد، ہر قوم یا فرقہ کو اپنی تنظیم کے متعلق آزادی حاصل ہو۔وغیرہ وغیرہ۔