اصحاب احمد (جلد 11) — Page 303
303 ہے۔اب وہ سونا بھی چاہیں تو ناممکن ہے۔اب یا تو وہ بیدار ہوکر اپنی زندگی کو قائم رکھیں یا مرکز زمین کو اپنے وجود سے پاک کر دیں۔دیگر سب راہیں بند ہیں۔اور یہ بھی بتایا کہ کنور دلیپ سنگھ کے فیصلہ سے جرأت پا کر ورتمان نے اس ظلم کو اور بڑھایا اور پے در پے پرتاپ اور ملاپ وغیرہ نے دریدہ بقیہ حاشیہ:۔اس کی غایت کو میں سمجھ نہیں سکا۔سوال یہی ہے کہ آیا کسی حج کے متعلق یہ مطالبہ کرنا کہ چونکہ اس نے ایک فیصلہ دینے میں ایک فاش غلطی کی ہے، اور اس غلطی سے خطرناک نتائج پیدا ہونے کا احتمال ہے، اس لئے اس بیج کو چاہیئے کہ وہ اپنے عہدہ سے مستعفی ہو جائے تو ہین عدالت ہے یا نہیں؟ میں عرض کروں گا کہ ایسا مطالبہ کرنے سے عدالت کی قطعاً کوئی تو ہین نہیں ہوتی۔آپ ایک لحظہ کے لئے یہ فرض کریں کہ عدالت عالیہ کا ایک فاضل جج پے در پے غلط فیصلہ جات صادر کرتا ہے، اور وہ فیصلہ جات اپیل میں منسوخ ہوتے چلے جاتے ہیں اس پر ایک اخبار نویس یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے حج کو مستعفی ہو جانا چاہیئے تو میں کہوں گا کہ یہ مطالبہ بالکل جائز ہوگا۔اور اس میں نہ حج کی تو ہین ہوگی نہ عدالت کی۔تو استعفاء کا مطالبہ کرنا اپنے اندر کوئی تو ہین نہیں رکھتا ہے۔یہ ہوسکتا ہے کہ جن وجوہ کی بناء پر استعفاء کا مطالبہ کیا گیا ہے ، وہ وجوہات صحیح نہ ہوں یا نا کافی ہوں اور استعفاء کا مطالبہ نا واجب ہو۔لیکن اس صورت میں بھی عدالت کی کوئی بہتک نہیں۔بعض دفعہ فاضل جوں نے خود یہ امر تسلیم کیا ہے کہ بعض حالات میں ایسا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔اور اگر چہ وہ مطالبہ کسی حد تک ناجائز بھی ہو، بیج کو چاہیئے کہ ایسے مطالبہ کو تسلیم کرے۔چنانچہ سر بارنس پر کاک چیف جسٹس کلکتہ ہائی کورٹ جو بعد میں پریوی کونسل کے حج بھی ہوئے اور ہندوستان کے قابل ترین جوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔اپنے ایک فیصلہ میں جو۱۴۴ انڈین کیسز صفحہ ۹۳۰ پر چھپا ہے۔فرماتے ہیں:۔میں پبلک کا ایک خادم ہوں۔اور پبلک کی رائے کا احترام کرتا ہوں۔اگر پبلک یہ یقین کرتی ہے کہ میں نے ان اختیارات کا جو میرے سپرد کئے گئے ہیں۔خود سرانہ، جابرانہ اور ظالمانہ استعمال کیا ہے، یا یہ کہ میں نے ان اختیارات کو خلاف ضابطہ طور پر برتا ہے، تو ملک کو چاہیئے کہ وہ اپنی رائے کسی ایسے طریق سے ظاہر کر دے جس کے متعلق غلط فہمی کا اندیشہ نہ رہے۔تو اس صورت میں میں ان کے فیصلہ کے سامنے اپنا سرخم کر دوں گا۔لیکن میں چند اخبارات کے اظہار رائے کو رائے عامہ کے اظہار کا مترادف قرار دینے کو تیار نہیں۔اگر کسی وقت بد قسمتی سے میں پبلک کے اعتماد کو کھودوں،خواہ اس میں میرا قصور ہو یا نہ ہو ، تو میں ان اختیارات سے فوراً علیحدہ ہو جانے کے لئے تیار ہو جاؤں گا جن کا استعمال پبلک کے اعتماد کے بغیر میں پبلک کے فائدہ کے لئے نہیں کر سکتا۔“