اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 304 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 304

304 پہنی کی۔ہمارا فرض ہے کہ حضور صلعم کی خاطر قید ہونے والوں کو چھڑا ئیں۔فیصلے کو بدلوائیں اور ان بقیہ حاشیہ:۔اس حوالہ سے صریح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، جب ایک فاضل جج سے بھی اس امر کا مطالبہ کیا جا سکے کہ وہ اپنے عہدہ سے الگ ہو جائے۔آپ ایک لحظہ کے لئے فرض کر لیں کہ سر بارنس پر کاک کے متذکرہ بالا اعلان کے بعد کوئی اخبار یہ اعلان شائع کرتا کہ ہمیں سر بارنس پر کاک پر اعتماد نہیں رہا، اس لئے وہ اپنے عہدہ سے مستعفی ہو جا ئیں ، کیا یہ ایک مضحکہ انگیز بات نہ ہوتی۔اگر سر بارنس پر کاک اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی جاری کر دیتے۔اس لئے میں یہ عرض کروں گا کہ یہ مطالبہ واجب ہو یا نا واجب، اپنی ذات میں یہ توہین عدالت نہیں ہے۔دوسرا مطالبہ جس کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ وہ تو ہین کی حد تک پہنچتا ہے وہ یہ ہے کہ اس غیر معمولی لغزش کے غیر معمولی اسباب دریافت کرنے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا جائے۔مسٹر جسٹس براڈوے :۔کیا اس سے صریح طور پر یہ مراد نہیں ہے کہ فاضل جج نے یہ فیصلہ ایسے اسباب سے متاثر ہو کر کیا ہے، جو بیرونی یا غیر جوڈیشنل اسباب ہیں؟ چوہدری ظفر اللہ خاں:۔اس فقرہ کے یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں۔لیکن ایسے معنی بھی ہو سکتے ہیں جن میں عدالت کی کوئی توہین نہ ہو۔اور اگر یہ فقرہ ایسا ہے کہ اس کے دونوں قسم کے معانی ہو سکتے ہیں۔تو عدالت کو چاہیئے کہ وہ معنی اختیار کرے جو قابلِ اعتراض نہ ہوں۔کیونکہ عدالت کو ہر شخص کی نیت کے متعلق حسن ظن رکھنا چاہئے۔خصوصاً جب خود مصنف نے یہ بیان کیا ہے کہ ان الفاظ سے حج پر کوئی ذاتی حملہ کرنا مقصود نہیں تھا۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔اگر اس کے وہ معنی نہیں جو بیان کئے گئے ہیں تو تمہارے نزدیک اس کے کیا معنی ہیں؟ چوہدری ظفر اللہ خاں :۔مصنف نے یہ بیان کیا ہے کہ رنگیلا رسول کتاب کے فیصلہ نے مسلمانوں میں ایک تہلکہ مچادیا اور سراسیمگی کی حالت پیدا کر دی۔ساتھ ہی یہ کہ مصنف مضمون کے خیال میں دفعہ ۱۵۳ الف تعزیرات ہند کے الفاظ اس قدر سادہ اور واضح ہیں کہ رنگیلا رسول جیسی کتاب یقیناً اس دفعہ کی زد میں آتی ہے۔ایسی صورت میں وہ بیان کرتا ہے کہ اس فیصلہ نے اسے حیرت اور استعجاب میں ڈال دیا۔اور اس حیرت اور استعجاب کی حالت میں وہ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ کوئی کمیشن بٹھا ؤ ، جو اس فیصلہ کی وجوہات معلوم کر کے ہمارا اطمینان کرے کہ ایسی فاش غلطی فاضل جج