اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 302 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 302

302 آپ نے ایک طویل اعلان کے ذریعہ بتایا کہ آج مسلمانوں کی زندگی اور موت کا سوال بقیہ حاشیہ: - سید حبیب کے مقدمہ میں باوجود سید صاحب کے معافی مانگنے اور شرمندگی کا اظہار کرنے کے اور اس امر کا لحاظ رکھتے ہوئے کہ سید حبیب صاحب کا معاملہ اس نوع کا پہلا معاملہ تھا۔عدالت نے سید حبیب کو ایک ماہ قید اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ کی سزاء دی تھی۔مسٹرنوڈ :۔سزاء کے معاملہ کو میں عدالت ہی کے اختیار پر چھوڑتا ہوں۔(اس مرحلہ پر لنچ کے لئے عدالت کا اجلاس برخاست ہوا) چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی جوابی تقریر چوہدری ظفر اللہ خاں :۔میرے موکل کے نام جو نوٹس اس عدالت سے جاری ہوا تھا۔اسمیں ۱۴ جون کے سارے کے سارے مضمون کے متعلق جواب طلبی کی گئی تھی۔اب جو درخواست فاضل گورنمنٹ ایڈووکیٹ نے اس عدالت میں موجودہ کا رروائی جاری کرنے کے لئے دی تھی ، اس میں بھی سارے مضمون کے خلاف شکایت کی گئی تھی۔اس لئے میرے موکل نے تمام مضمون کے متعلق مفصل تحریری بیان داخل کیا ہے۔آج فاضل گورنمنٹ ایڈووکیٹ نے الزامات کو مضمون کے پہلے اور آخری دو فقروں تک محدود کر دیا ہے۔اگر نوٹس میں بھی یہ حد بندی کر دی جاتی ، تو اس قدر مفصل بیان کی ضرورت نہ پڑتی۔بہر صورت میرے فاضل دوست نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کسی فیصلہ کے متعلق یہ کہنا غلط اور غیر منصفانہ ہے تو ہین عدالت نہیں۔مسٹر جسٹس براڈوے :۔گورنمنٹ ایڈووکیٹ نے غیر منصفانہ کا لفظ استعمال نہیں کیا ، بلکہ لفظ خلاف قانون استعمال کیا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں :۔یہی سہی۔بہر صورت میرے فاضل دوست کو مضمون کے درمیانی حصہ کے متعلق کوئی اعتراض نہیں۔انہوں نے دو باتوں پر اعتراض کیا ہے۔ایک تو یہ کہ فاضل جج سے مستعفی ہو جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اور دوسرے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایک کمیشن بٹھایا جائے جو اس غیر معمولی فیصلہ کے غیر معمولی وجوہات کی تحقیق کرے۔پہلے مطالبہ کے متعلق میرے فاضل دوست نے کہا ہے کہ اس میں فاضل جج کی تو کوئی ایسی تو ہین نہیں۔البتہ اس عدالت کی ضرور تو ہین ہے۔تو ہین عدالت کے متعلق ہم نے تو یہی سنا ہے کہ وہی چیز تو ہین قرار دی جاتی ہے جو عدالت کی توہین ہو۔اس لئے میرے فاضل دوست نے یہ جو تمیز حج کی تو ہین اور عدالت کی توہین میں کرنی چاہی۔