اصحاب احمد (جلد 11) — Page 301
301 انتھک کوشش کر رہے ہیں۔ان کی نظیر مسلمانوں کا کوئی دوسرا فرقہ نہیں پیش کر سکتا۔یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ اس فرقہ کے عالم وجود میں آنے کی غرض وغایت ہی ہندوؤں اور خاص کر آریہ سماجیوں کو تباہ و برباد کر نا تھی۔“ 66 ( بحواله الفضل ۲۹/۷/۲۷) بقیہ حاشیہ: - نزدیک یہ فیصلہ ایسے صریح اور فاش طور پر غلط ہے کہ اس کو اس فیصلہ کے پیچھے غیر جوڈیشنل اسباب کی جھلک نظر آرہی ہے۔اس کی رائے میں اس فیصلہ کی تہہ میں قومی یا مذہبی اختلاف یا اس قسم کی اور وجوہ جھلک دکھا رہی ہیں۔ایک حج کے متعلق اس طور پر اشارہ کرنا کہ ایک فیصلہ کرنے میں اس نے دیانتداری سے کام نہیں لیا۔اور بیرونی یا غیر متعلق اسباب سے متاثر ہو کر اس نے فیصلہ صادر کیا ہے عدالت کی صریح تو ہین ہے۔چنانچہ لا ہور صفحہ ۵۲۸ میں عدالت قرار دے چکی ہے کہ کسی حج کے متعلق ایسا اتہام لگانا تو ہین عدالت ہے۔اس مقدمہ کے واقعات پر اس فیصلہ کا صاف طور پر اطلاق ہوتا ہے۔یہ تو ہین ایک بااثر انگریزی اخبار میں کی گئی ہے جس کے بہت سے پڑھنے والے ہیں۔اس لئے اس کا اثر بہت وسیع حلقوں میں پڑنے کا احتمال ہے۔اس اخبار کو ایک گورمکھی کے اخبار پر جو دیہاتی جہلاء کے طبقہ میں پڑھا جاتا ہے۔قیاس نہیں کیا جاسکتا۔اس کے پڑھنے والے تعلیم یافتہ لوگ ہیں جن پر اس مضمون کا برا اثر پڑنے کا احتمال ہے۔یہ مضمون ۱۴ جون کو شائع ہوا، اور اس کے بعد بھی اس مسئلہ کے متعلق اس اخبار میں مضامین شائع ہوتے رہے۔لیکن بعد کے پر چوں میں سے کسی میں بھی اس مضمون کے متعلق اظہار افسوس نہیں کیا گیا۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔بعد کے پرچوں کا کیا ذکر ہے، ملزمان نے تو اپنے تحریری بیان میں بھی کسی قسم کا اظہارافسوس نہیں کیا۔مسٹرنوڈ :۔نہ ہی صرف یہ بلکہ انہوں نے فخر کا اظہار کیا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے دین کی خدمت کر رہے ہیں ، اور اپنے آپ کو شاباش دیتے ہیں۔ایڈیٹر کی ذمہ داری تو اس مضمون کے متعلق ظاہر ہی ہے۔قانو نا ناشر و تابع کی ذمہ داری بھی ویسی ہی ہے جیسی کہ ایڈیٹر کی۔خصوصاً جب ایڈیٹر نے پوری ذمہ داری کو تسلیم نہیں کیا۔