اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 280 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 280

280 کرنے لگے۔قادیان جلسہ سالانہ پر آئے تو غیر حاضری میں بیوی سب سامان لے کر والدین کے ہاں چلی گئی ، اور فسخ نکاح کا مقدمہ دائر کر دیا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو مقدمہ کی پیروی کا ارشاد فرمایا۔اور حضور کے ارشاد پر محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب مقدمہ کی پیروی کے لئے تشریف لائے (اس وقت آپ کی عمر چوبیس سال تھی )۔۲۳/۲/۱۷ کو ذیل کی تین تنقیحات قائم ہوئیں اور تینوں کا ثبوت بذمہ مدعیہ تھا۔(۱) کیا مدعی علیہ بوجہ مرید ہو جانے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے مسلمان نہیں رہا۔(۲) اگر ایسا ہوا ہے تو کیا مدعیہ تنسیخ نکاح کا دعوی کر سکتی ہے۔(۳) اگر یہ ثابت ہو کہ مدعی علیہ باوجود حضرت مرزا صاحب کے مرید ہو جانے کے مسلمان ہے، تو کیا دعوی تنسیخ نکاح ہو سکتا ہے یا دعوی استقرار یہ۔۱۹/۳/۱۷ کو گواہان مولوی محمد حسین بٹالوی و مولوی احمد اللہ امرتسر نہیں آئے۔مولوی عبدالواحد غزنوی ، مولوی نور احمد ، مولوی عبد الصمد و مولوی غلام مصطفی حاضر تھے۔ان مولویوں کا دین ایمان اس قسم کا ہے کہ غزنوی صاحب نے کچہری جاتے ہوئے حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری سے ذکر کیا کہ میں نے کفر کے فتویٰ پر دستخط نہیں کئے نہ مجھے معلوم ہے کہ کس بات کے لئے میری شہادت ہے۔حالانکہ فتویٰ کفر پر ان کے دستخط تھے۔یہ بھی کہا کہ (مولوی ) ثناء اللہ امرتسری کافر ہے۔اسی کافر سے یہ دیگر مولوی سبق پڑھ رہے تھے کہ سب حج عیسائی ہے اس لئے یہ کہنا کہ مرزا صاحب حضرت عیسی جیسے اولوالعزم نبی کو برا کہتے ہیں اور خود نبی بنتے ہیں۔اس لئے معاذ اللہ کافر ہیں۔ان علماء نے شہادت میں کہا کہ آنحضرت صلعم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔جو دعو ملی نبوت کرے وہ کافر ہے۔جو حضرت عیسی کو گالی دے وہ بھی کافر۔چونکہ مرزا صاحب نے (معاذ اللہ ) ایسا کیا ، اس لئے وہ کافر۔سوال کے جواب میں کہا۔مسیح موعود نبی اللہ ہو کر آئے گا۔وہ دعوی نبوت کرے گا۔سچا نبی ہوگا۔اس کو وحی ہوگی۔جو شخص آمَنتُ بِاللهِ وَمَلائِكَتِهِ کہے وہ مومن مسلمان ہے۔جو بقیہ حاشیہ:- لئے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ مقدمہ اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔اور خدا ہی کے فضل سے آپ نے اس خوبی اور قابلیت سے اس کو عدالت میں پیش کیا ہے کہ چیف بھی آپ کی قابلیت کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے۔“ مقدمه حکیم خلیل احمد بنام اسرافیل ( پٹنہ لا جرنل جلد ۲)۔