اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 279 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 279

279 اجازت نہیں دی جاسکتی۔اس حج نے اور بعد ازاں ڈسٹرکٹ جج نے دعوی خارج کر دیا۔البتہ یہ قرار دیا کہ احمدی مسلمان ہیں۔لیکن ان کی رسوم وغیرہ مسلمانوں سے مختلف ہیں اس لئے وہ اس رعایت کے مستحق نہیں۔اس پر بہار ہائی کورٹ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے مرافعہ دائر کیا گیا اور ۱۲ / دسمبر ۱۹۱۶ ء کو محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ( جن کی عمر اس وقت چوبیس سال تھی ) پیش ہوئے۔آپ نے بتایا کہ محمدن لاء کی رو سے عدالت ماتحت نے میرے موکلوں کو مسلمان قرار دیا ہے۔اس لئے ہم اس رعایت کے مستحق ہیں۔مخالف فریق کی طرف سے مظہر حق وکیل پیش ہوئے۔جن کو گذشتہ سال ان کے اطوار اور غیر مسلموں سے خلاملاء کے باعث مسلمانوں نے کافر قرار دیا تھا۔چیف جج صاحب نے چوہدری صاحب کی بہت تعریف کی اور کہا کہ ججان ہائی کورٹ ان کے بہت ممنون ہیں۔ہائی کورٹ میں فیصلہ میں قرار دیا کہ باوجود بعض عقائد کے اختلاف کے احمدی مسلمان ہیں ، اور احمدی اگر چاہیں تو مسجد میں داخل ہو سکتے ہیں۔* (۲) مقدمه امرتسر۔میاں سراج الدین صاحب سکنہ امرتسر ( جو بعد ازاں مسجد اقصیٰ کے مؤذن ہوئے اور اب ربوہ میں ہیں)۔ایک خواب کی بناء پر جماعت احمدیہ کے ساتھ مل کر نمازیں ادا بقیہ حاشیہ: یہ دیکھ کر بعض سکھ مواضع اچان گئے۔تا کہ وہاں سے سکھوں کو لائیں۔لیکن جب تک وہ پہنچے۔اس وقت تک معاملہ ختم ہو چکا تھا۔آپ بیان کرتے ہیں کہ چونکہ کمشنر کی نیت بخیر نہ تھی۔چنانچہ کسی وکیل کو پیش ہونے کی وہ اجازت نہ دیتا تھا۔اور چوہدری صاحب کو بھی اس نے منع کرنا چاہا۔لیکن آپ نے کہا کہ میں قادیان کا باشندہ ہونے کی حیثیت سے پیش ہوا ہوں۔خاکسار مؤلف کو یاد ہے کہ ہم طلباء مدرسہ احمدیہ کو بھی وہاں بھجوایا گیا تھا۔اور پولیس نے احمدیوں سے لاٹھیاں رکھوالی تھیں اور بعد میں واپس نہیں کی تھیں۔اور غالباً تا خیر سے آنے کے باعث حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو پیش ہونے سے بھی اس بد مزاج کمشنر نے روک دیا تھا۔لیکن چوہدری صاحب نے بہت غیرت کا اظہار کیا اور اسے آڑے ہاتھوں لیا۔جس پر اسے بادلِ ناخواستہ اجازت دینی پڑی۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کو بھی ڈولی میں ڈال کر وہاں لایا گیا تھا۔الفضل ۱۹/۲۲ / دسمبر ۱۹۱۶ء (ص۲) یہاں یہ بھی مرقوم ہے کہ آپ نے محض خدا تعالیٰ کے