اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 108 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 108

108 کمرہ میں بچھایا گیا۔میں نے عرض کی آپ نے مکان پہچان لیا ؟ فرمایا۔ہاں۔پھر میں نے کہا آپ کا پلنگ نچلی منزل میں ہی گول کمرہ میں ہے۔اس پر نظر اٹھا کر کمرہ کی دیواروں کو دیکھا اور فرمایا۔” میں نے پہچان لیا ہے۔اب روح کو اطمینان ہو گیا کہ خدا کے مسیح کی تخت گاہ تک پہنچنے کی مہلت مل گئی اور کوئی اور خواہش باقی نہ رہی۔وفات: "عصر کے وقت ڈسکہ سے کفن کی چادر میں بھی پہنچ گئیں۔وہی جو چودہ سال قبل زمزم کے پانی میں دھوئی گئی تھیں۔پھر رات آئی اور کیسی رات۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ کسی روحانی شاہزادی نے ہمارے گھر کو ایک رات کیلئے اپنا قیام گاہ تجویز کر کے اسے نور سے بھر دیا ہے اور ہر لحظہ یہاں فرشتے نازل ہورہے ہیں۔نصف شب کے قریب جب بظاہر کئی گھنٹوں سے بیہوشی کا عالم تھا۔کسی نے مجھ سے کہا تم بلا ؤ تو شاید جواب دیں ہم نے تو بلایا ہے کوئی جواب نہیں دیتیں۔میں نے بلایا تو جواب دیا ہاں تین بجے کے قریب جب تہجد کا وقت ہوا تو کامل بیہوشی کی حالت ہوگئی۔محض سانس آتا تھا۔گویا اپنے رویا کے مطابق پالکی میں سوار ہونے اور سفر شروع کرنے کے لئے تیار ہو گئی تھیں۔صبح ساڑے سات بجے کے قریب میں نے والدہ امتہ الحی سے کہا کہ سب لوگ ناشتہ کر لیں کیونکہ ان کا عہد ہے کہ بچے ناشتہ کر لیں گے تو روانہ ہونگی۔پھر میں والدہ صاحبہ کا وہ خواب یا دکر کے جس میں انہوں نے دیکھا تھا کہ اندھیرے میں خیمہ کے اندر کیچڑ میں پھنس گئی ہیں۔اور فرمایا تھا کہ الفضل میں زیرہ مدینہ مسیح ، محترم چوہدری صاحب کی والدہ صاحبہ کو لانے کا اورمحترمہ کی علالت کا ذکر کر کے لکھا ہے : - حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب۔جناب مولوی عبد المغنی خاں صاحب اور جناب چوہدری فتح محمد صاحب سیال کے علاوہ بہت سے احباب سٹیشن پر تشریف لے گئے تھے “۔(مورخہ ۳۸-۵-۱۷)