اصحاب احمد (جلد 11) — Page 109
109 ظفر اللہ خاں کو کوئی خبر کرے تو وہ مجھے یہاں سے نکلوانے کا انتظام کرے۔ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے رحمت کی دعا کرنی شروع کی سانس جو کچھ وقت پہلے تیز ہو گیا تھا ساڑھے سات بجے کے قریب ہلکا ہونا شروع ہو گیا۔اور جب گھر کے لوگ مہمان اور ملازم سب ناشتہ ختم کر چکے۔تو ۹ بجے کے قریب روح اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہوگئی۔یہ ۶ ارمئی سوموار کا دن تھا۔( میری والدہ ) حضرت چوہدری صاحب کی وفات کے کچھ عرصہ بعد مرحومہ نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ اگر ممکن ہو تو ان کے قرب قریب میں میری قبر کی جگہ مقررفرما ئیں۔فرمایا عام طور پر ایسا کرنا تو پسندیدہ نہیں لیکن استثنائی صورت میں ایسا ہو سکتا ہے۔چنانچہ چوہدری صاحب محترم کی قبر کے دائیں طرف آپ کیلئے جگہ مقرر فرما دی۔لیکن ایسا اتفاق ہوا کہ جب حضرت تائی صاحبہ فوت ہوئیں تو انہیں اس جگہ دفن کر دیا گیا۔آپ نے جب حضرت صاحب کی خدمت میں اس امر کا ذکر کیا تو فرمایا منتظمین کے سہو سے ایسا ہو گیا ہے۔اب ہم نے اور جگہ آپ کے لئے تجویز کر دی ہے۔یہ ہے تو اسی قطعہ میں لیکن چوہدری صاحب کے پاؤں کی طرف ہے۔انہوں نے عرض کیا حضور میں ہوں بھی ان کے پاؤں کی جگہ کے ہی لائق۔لیکن اب ایسا انتظام فرمائیے کہ پھر میری جگہ کسی اور کونہ مل جائے۔فرمایا اب محکمہ بہشتی مقبرہ کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ اپنے رجسٹروں میں اس کا اندراج کر دیں اور اخبار میں اعلان بھی کرا دیا جائے گا۔محترم چوہدری صاحب تحریر فرماتے ہیں : ۱۲ بجے کے قریب جسم کو اسی مقام پر سپر د خاک کر دیا گیا۔جو پہلے سے اس کی آخری قیام گاہ تجویز ہو چکا تھا۔كُلِّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ 8 صاحبزادگان حضرت مرزا بشیر احمد صاحب و حضرت مرزا شریف احمد صاحب و دیگر افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جنازہ کو کندھا دیا۔لحد کیلئے ایک دوائیٹوں کی درستی کی ضرورت ہوئی تو حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے اپنے ہاتھ سے انہیں درست کیا۔“ ( میری والدہ ) پیاری والدہ کی درد بھری یاد والدہ اور پھر ایسی ودود۔ولی اللہ صاحب کشف و الہام کی یاد بھلا اولا د کوعمر بھر کیوں نہ ستائے؟ محترم چوہدری صاحب رقم فرماتے ہیں :۔