اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 107 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 107

107 خوش ہوئیں اور مجھے دعا دی ہم نے اسی وقت تیاری شروع کر دی اور شام کی گاڑی سے قادیان روانہ ہو گئے۔طبی لحاظ سے تو اس قدر مہلت ملنا موجب حیرت تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ خواہش بھی پوری کر دی۔آہستہ آہستہ کمزوری بڑھتی گئی اور کسی وقت کچھ بے چینی بھی ہو جاتی تھی۔لیکن ہوش رات بھر قائم رہا گیارہ بجے کے قریب عزیز اسد اللہ خاں کو اور مجھے پاس بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا۔”جاؤ بیٹا اب سو جاؤ۔“ یہ آخری کلمہ تھا جو اپنی مرضی سے خود بخود اس پیارے منہ سے نکلا۔ڈاکٹر عاجز آچکے تھے۔علاج بند ہو چکا تھا۔روح اپنے خالق کے سامنے پیش ہونے کی تیاری کر رہی تھی لیکن ماں کی مامتا کو اس وقت بھی یہ فکر تھی کہ میرے بیٹوں کے آرام میں خلل نہ آئے۔تھوڑی دیر کے بعد جب میں اکیلا ہی ان کے پاس تھا تو میں نے بلایا۔جواب دیا۔”جیو پتر میں نے کہا آپ نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی۔فرمایا میں نے دوسروں کے ساتھ بھی کوئی خاص بات نہیں کی۔میں نے کہا دوسرے تو صرف بیٹے ہی ہیں اور میرے اور آپ کے درمیان تو عشق کا رشتہ تھا۔فرمایا ہاں۔اس رات ایک عجیب کیفیت ہمارے سامنے تھی طبی لحاظ سے روح اور جسم کا جوڑ ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن روح اپنے خالق کے سامنے سجدہ میں پڑی ہوئی عرض کر رہی تھی کہ آپ کی رحمت سے بعید نہیں کہ آپ اس جوڑ کے قائم رہنے کا حکم فرما ئیں۔جب تک آپ کا یہ عاجز اور نا تو ان بندہ اس سرزمین میں پہنچ جائے جو آپ کے ایک محبوب کی جائے قیام ہونے کی وجہ سے آپ کے انوار اور رحمت کی مبط ہے۔گاڑی تیز چل رہی تھی اور ہر لحظہ ہمیں قادیان سے قریب کر رہی تھی۔اور ہم یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔مرا عہد لیست با جاناں که تا جان در بدن دارم ہوا دار کی کوئکیش را بجان خویشتن دارم ۵ ارمئی اتوار کے دن پونے دس بجے قبل دو پہر ہم قادیان پہنچے۔میں نے والدہ صاحبہ کی خدمت میں عرض کی قادیان آگیا ہے فرمایا۔”بسم اللہ۔بسم اللہ۔پھر میں نے کہا۔آپ کو کوٹھی لے چلیں ؟ فرمایا۔ہاں۔اپنی کوٹھی میں لے چلو۔بیت الظفر ، پہنچ کر آپ کا پلنگ نچلی منزل میں گول