اصحاب احمد (جلد 10) — Page 36
36 ہم اظہار افسوس کے کے ساتھ ان کے علاج کے لئے لاہور آئے اور کافی عرصہ تک ( جب تک ان کا علاج ہوتا رہا) لاہور محترم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور کی کوٹھی پر ٹھہرے رہے ان ایام میں کئی دفعہ میں اور میاں محمد صادق صاحب سیدہ ام طاہر صاحبہ کی بیمار پرسی کے لئے حضرت صاحب کی خدمت میں آتے رہے کبھی ہم دونوں اکٹھے آتے اور کبھی علیحدہ علیحدہ۔آپ خوشی خلقی اور خندہ پیشانی سے ہم سے ملتے۔اور بڑی بڑی دیر تک ہم سے باتیں کرتے رہتے۔جس کا ہم پر بڑا اچھا اثر ہوا۔۔۔سیدہ ام طاہر وفات پاگئیں تو لئے شیخ صاحب کی کوٹھی پر آئے لیکن حضرت صاحب ہمارے پہنچنے سے پہلے جنازہ لے کر قادیان روانہ ہو چکے تھے۔یہ اتوار ۵ مارچ ۱۹۴۴ء کا واقعہ ہے۔اس کے دو تین دن بعد میں نے اور میاں محمد صادق صاحب نے ارادہ کیا کہ ہم قادیان جا کر اظہار افسوس کریں۔چنانچہ بدھ کے دن ہم دونوں قادیان گئے۔جمعرات کی صبح حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اظہار افسوس کیا۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب سے بھی ملے۔پھر جمعہ کی صبح کو حضرت میاں بشیر احمد صاحب سے ملے۔ہم ڈاکٹر احسان علی صاحب کے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے۔جمعہ کی صبح باتوں باتوں میں میں نے میاں محمد صادق صاحب سے کہا کہ اب آپ اتفاق سے قادیان آئے ہوئے ہیں۔بیعت کر لو تا کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی ضرورت نہ رہے۔اب بھی میاں صاحب نے یہی جواب دیا کہ تم بیعت کر لوتو میں بھی کرلوں گا۔آخر بڑی رڈ وکر کے بعد میں نے کہا کہ اچھا چلو میں بھی بیعت کر لیتا ہوں۔اسی وقت فیصلہ ہوا کہ آج جمعہ کی نماز کے بعد بیعت کر لیں۔چنانچہ اسی وقت ایک رقعہ حضرت صاحب کی خدمت میں اور ایک حضرت میاں بشیر احمد صاحب کو لکھا گیا۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب کو پہلے تو باور نہیں آیا۔کیونکہ یہ رقعے ڈاکٹر احسان علی صاحب کی طرف سے تھے۔وہ کہنے لگے کہ دونوں آج صبح مجھے مل کر گئے ہیں بیعت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ایسا ہی حضرت صاحب نے بھی تعجب کا اظہار کیا۔خیر جمعہ کی نماز کے بعد ہم دونوں نے مسجد اقصے میں حضرت صاحب کی بیعت کی۔بیعت کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا کہ مجھے آپ کی بیعت سے بہت خوشی ہوئی۔کیونکہ آپ میرے استاد ہیں اور میری ہمیشہ خواہش رہتی تھی کہ آپ بیعت کر لیں۔اور میاں محمد صادق صاحب سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے میری بڑی مخالفت کی ہے مگر میں نے کبھی آپ کے لئے بدعا نہیں کی۔بلکہ ہمیشہ دعا کرتا رہا ہوں۔اسطرح ۱۰مارچ ۱۹۴۴ءکو جمعہ کے دن میں حضرت صاحب کی بیعت سے مشرف ہوا۔جدید