اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 37 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 37

37 خدمات بعد بیعت خلافت : اگست ۱۹۴۷ء میں سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے آپ کے سپرد دفتر وکیل المال تحریک جدید میں مشن ہائے بیرون ہند کے بجٹ تیار کرنے کا کام سپرد کیا۔زیر عنوان دو معزز غیر مبائع اصحاب حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی بیعت میں الفضل میں مرقوم ہے :۔قادیان ۱۰امان۔آج بعد نماز جمعہ مجد افضی میں مکرم جناب ماسٹر فقیر اللہ صاحب اور مکرم جناب خان بہادر میاں محمد صادق صاحب سید نا حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دست مبارک پر شرف بیعت خلافت حاصل کر کے شامل جماعت احمد یہ ہوئے۔یہ خبر جماعت احمدیہ کے لئے نہایت خوشی اور مسرت کا موجب ہے ہر دو اصحاب فریق لاہور کے بہت بڑے اور ذمہ دار ارکان تھے۔ہدایت محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے کافی عرصہ تک تحقیق کرنے کے بعد انہوں نے بیعت کی ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں احباب اور ان کے خاندانوں کے لئے یہ کار خیر مبارک اور دائمی سعادت کا موجب بنائے“ (10) محترم سید امجد علی شاہ صاحب سیالکوٹی کے مضمون مندرجہ ماہنامہ فرقان بابت ستمبر اکتوبر ۱۹۴۴ء (صفحه ۳ پر ) آپ کا ذکر آتا ہے ماسٹر صاحب کا اپنا مضمون ”مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں کے بعض اندرونی اختلافات ( بابت جولائی ۱۹۴۴ء) اور مضمون ” میں مولوی محمد علی صاحب سے کیوں علیحدہ ہوا“۔(الفضل مورخہ ۴/۴/۴۴) اور میاں محمد صادق صاحب کا مضمون ”مولوی محمد علی صاحب کا پاکیزہ دودھ ( " بابت اگست ۱۹۴۴ء) قابل مطالعہ ہیں۔ماسٹر صاحب الفضل والے مضمون میں لکھتے ہیں کہ سیکرٹری انجمن لاہور نے ”پیغام صلح میں میرے متعلق لکھا ہے کہ میں بہائی ہونے لگا تھا۔پھر کسی مصلحت سے جماعت قادیان میں شامل ہو گیا۔۔نیز ماسٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ میرے قادیان چھوڑنے کی وجہ اختلاف عقائد یا ایسی کوئی اور بات نہ تھی۔اختلاف عقائد کی باریکیوں کا پہلے کسی کوعلم نہ تھا میں حضرت مولانا غلام حسن صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے عقیدت کے باعث لاہور چلا آیا تھا۔لیکن مجھے اس امر سے بہت ٹھیس لگی کہ ترجمہ قرآن مجید انگریزی جس کی خاطر صدرانجمن احمدیہ نے مولوی محمد علی صاحب کو بھی فارغ کیا تھا۔اور پھر پہاڑ پر بھی اس کے خرچ پر جاتے رہے اس ترجمہ کا مسودہ اور کتب تفاسیر وغیرہ لاہور لے آئے اور ان سب کو اپنی ملکیت بنالیا۔مولوی صاحب کے قریب ہونے کا جس کو بھی موقع ملا وہ ان سے متنفر ہوا۔پیر پرستی وغیرہ الفاظ سے جماعت مبائعین کو اس لئے مطعون کرتے ہیں کہ خود ان کے ساتھی اس سے ویسی عقیدت نہیں بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر پھر تقسیم ملک کے باعث آپ آخر ستمبر میں قادیان سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔یکم اکتوبر ۱۹۴۷ء سے