اصحاب احمد (جلد 10) — Page 460
460 بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قو میں اس سے برکت پائیں گی تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔وکان امر امتقضیا۔(۹۳) السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سیدنا وسید المسلمين ! اگر چہ حضور کے خادمان کا وہی ایڈریس ہے جو قوم کی جانب سے جناب ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب نے بحیثیت جنرل سیکرٹری ہونے کے بر وقت ورود بمبئی میں پیش کیا ہے اس کے بعد ضرورت نہ تھی کہ ہر جگہ کی جماعتیں فرداً فرداً ایڈریس و خیر مقدم پیش کریں لیکن دلی جذبات ہر ایک کے اندر موجود ہیں وہ بے چین کر دیتے ہیں۔جب تک مناسب طریق اور مناسب وقت سے ادا نہ ہوں اس لئے میں اپنی طرف سے اور اپنے خاندان کے ہر ایک فرد کی جانب سے جن میں سے اکثر اس وقت حاضر ہیں حضور کو اس قدر دور دراز سفر سے بخیریت واپسی پر مبارک باد عرض کرتا ہوں۔اے حضرت مصلح موعود ! جو پروگرام بر وقت روانگی حضور نے اپنے لئے بغرض اشاعت اسلام مقرر فرمایا تھا۔جس کو حضور نے اپنے گرامی نامہ میں جو قبل از وقت روانگی شائع فرمایا تھا۔صراحت کے ساتھ مذکور فرمایا ہے۔اس میں پورے طور پر اور ہر طریق پر حضور کو کامیابی حاصل ہوئی۔اور سلسلہ احمدیہ کے حالات اور خیالات امن جو مذہب اسلام کی ترقی کا روشن اور کامیاب پہلو ہے یورپ ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے اعلیٰ اور ادنیٰ طبقہ میں پہنچانے میں جو نصرت حضور کو حضرت رب العزۃ نے عطا فرمائی اس کی میں حضور کو دوبارہ مبارک بادعرض کرنے کی تمنا کرتا ہوں۔یا خلیفتہ المسیح الموعود ! گو حضور نے یورپ، امریکہ بلکہ تمام دنیا میں ترقی اسلام کے وسائل سالہا سال سے پہلے بموجب حکم حضرت احدیت جل و علی شانہ مستحکم طور پر قائم فرمائے ہوئے تھے۔لیکن مسجد لنڈن کا بنیادی پتھر۔۔دست مبارک سے مسجد پر چسپاں فرما کر اسلام اور خدائے واحد کا نام خطہ یورپ میں مستحکم فرما دیا۔گو یا خدائے واحد نے اپنے واحد نام کے دنیا میں روشن کرنے اور خاتم النبین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور (حضور کے تابع ) نبی حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام دنیا کے کناروں تک پھیلانے کے لئے حضور کو منتخب فرمایا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملاء اعلیٰ میں جو مرتبہ اور فضلیت ور کو حاصل ہے آج دنیا میں اس کا ثانی نہیں۔اور یہی انسانی پیدائش کی غرض اصل ہے اس لئے میں حضور کی خدمت بابرکت میں تیسری دفعہ پھر اپنے۔۔حضور اخبار میں خطوط وحدانی والی جگہ خالی ہے۔کوئی لفظ یا الفاظ چھپنے سے رہ گئے ہیں۔یہ الفاظ ربط کلام کے مطابق خاکسار کی طرف سے درج ہیں (مؤلف)