اصحاب احمد (جلد 10) — Page 461
461 مبارک باد عرض کرتا ہوں۔اور امید وار ہوں کہ میرے خاندان کے لئے دعاؤں کے ساتھ قبولیت کا شرف بخشا جائے گا۔جناب اعلیٰ ! وہ کوائف اور صدمات جو حضور کو اپنے خاندان اور قومی افراد کی تکالیف اور مصائب کی وجہ سے دوران سفر میں پیش آئے جن کو حضور نے نہایت صبر سے برداشت فرما کر قوم کوصبر کی تلقین فرمائی۔حضور عالی! ہر جا که گل است خار است جس طرح پھول تک ہاتھ پہنچانے میں کانٹوں سے واسطہ پڑتا ہے۔اسی طرح مبشرات سے پہلے منذرات کا ہونا لازمی ہے اور خدائے قدوس عالم الغیب نے پہلے ہی ان کی اطلاع حضور کو دے دی تھی۔جیسا کہ گرامی نامہ میں تحریر ہے ان کا ظاہر ہونا ضروری تھا جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی متواتر فرمایا ہے۔اس لئے یہ یقینا آنے والی کامیابی اور نصرت کا پیش خیمہ ہے۔ہم حضور کو یقین دلاتے ہیں کہ نعمت اللہ شہید رحمۃ اللہ علیہ کے واقعہ سنگساری نے ہمارے خون میں جوش پیدا کر دیا تھا۔اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھی تھی لیکن جیسا کہ اسلامی تعلیم نے ہماری رہنمائی کی اور حضور نے اس پر عمل فرما کر ہمارے جوشوں کو صبر کے ساتھ مبدل کر دیا۔ہم رب العالمین کے حضور میں دست بہ دعا ہیں کہ خدا تعالیٰ ہم کو نعم البدل عطا فرمائے اور وہ یہ کہ سرزمین کابل میں احمدیت کا سورج روشن ہو۔پیارے اور واجب الاحترام امام! بے شک اس والدہ کی طرح حضور نے بھی ہم سے دریافت فرمایا کہ میں لنڈن ہو آؤں اور ہم نے بھی یہی رائے دیدی مگر پھگواڑہ ریلوے اسٹیشن سے حضور کی سواری کا روا نہ ہونا تھا کہ ہمارے دلوں کی وہی حالت تھی جو مجھے اپنی والدہ کی نظر سے اوجھل ہو جانے کی حالت میں ہوتی ہے۔اور جوں جوں زمانہ زیادہ گزرتا جاتا تھا، محبت اور جدائی کی تڑپ بھی زیادہ ہوتی جاتی تھی۔یہی تڑپ تھی جس نے ہم کو دعاؤں میں مصروف کر دیا اور دن رات کی تنہائی کی دعاؤں کے علاوہ پنجوقت نماز کے اوقات میں بھی ہم سب مل کر دعا کرنا ہم نے ایک فرض کر لیا تھا۔میری اس دلی تڑپ کو خدا تعالیٰ نے مقبول فرمایا اور چند یوم کے بعد رڈیا میں مجھے دعا کا نظارہ دکھا کر دعا کی تعلیم فرمائی اس طرح پر کہ تختہ جہاز پر حضور نے میری روح کو طلب فرمایا اور دعا شروع کی جس میں میں بھی شریک تھا بہت لمبی دعا کی گئی۔اور ختم فرمانے کے بعد حضور نے بالکل اسی طریق پر جیسا کہ مسیح موعود علیہ السلام کا لہجہ اور صورت تھی فرمایا کہ اگر اس طرح دعا کی جائے تو خدا تعالی بیٹرا پار فرما دیتا ہے۔حضور اعلیٰ ! ہمارے دلی جذبات کی کوئی انتہا نہیں۔اور ان کے بیان کرنے کے لئے وقت بھی کافی