اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 458 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 458

458 آن ترقی ہوئی ہے۔اور کبھی کسی ابتلاء اور امتحان نے ان کے قدم کو پیچھے نہیں کیا بلکہ انہوں نے جو شرائط بیعت میں عہد کیا تھا کہ۔عسر ویسر میں قدم آگے بڑھاؤں گا“ وہ آگے ہی بڑھتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خدام قدیم سے بھی انہیں بے حد محبت اور اخلاص ہے۔حضرت مفتی صاحب کی واپسی کی خبر جب ان کو معلوم ہوئی تو انہوں نے اپنے خاندان کے ممبروں کو جو حاجی پور میں موجود نہ تھے مختلف مقامات سے جمع کر کے ایک ایڈریس تیار کیا مگر پروگرام کی تبدیلی کی وجہ سے انہیں اپنی دلی آرزو کے پورا کرنے کا موقعہ نہ ملا (میں یہ ایڈریس ) درج کر دیتا ہوں اور اگر ممکن ہوا تو جناب مفتی صاحب کا تحریری جواب بھی دے سکوں گا۔اس سپاسنامہ میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ آپ کے اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے روانگی کے وقت ۱۰/ مارچ ۱۹۱۷ء کو اسی پھگواڑہ ریلوے اسٹیشن سے آپ کو ہم نے دعاؤں کے ساتھ با چشم گریاں رخصت کیا تھا۔آپ نے خدمت دین کی توفیق پائی۔درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔آپ نے اپنے اعمال سے ثابت کر دیا ہے کہ 66 آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درخشندہ گوہر ہیں اور برگزیدہ صلحاء وصادقین میں سے ہیں۔حضرت مفتی صاحب نے اپنے جواب میں بیان کیا کہ آپ کا سپاسنامہ دیگر سپاسناموں سے ممتاز ہے اور مجھے جو آپ سے قدیمی تعلقات ہیں ان کی وجہ سے ایک خاص کیفیت کا حامل ہے جس کا ایک عجیب اثر میں اپنے دل میں پاتا ہوں اور سب سے زیادہ مسرت بخش آپ کے یہ الفاظ ہیں کہ الوداع کے وقت سے اب تک میرے لئے دعائیں جاری ہیں۔میں یقین دالا تا ہوں کہ میں آپ کی دعاؤں کی قبولیت کے آثار دیکھتارہا ہوں اور آپ سب سے میں مزید دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں۔ان سات برسوں میں جو مصائب اور اضطراب مجھے پیش آئے میں آپ اور آپ کے اہل وعیال کے لئے نام بنام بھی دعا کرتا رہا ہوں۔جب ( جنگ عظیم اوّل میں ) جرمن کی طرف سے لندن پر آتشیں گولے برسائے جاتے تھے۔اور لوگ ڈر کر تہ خانوں میں گھس جاتے تھے۔میں اپنے بسترے پر لیٹا ہوا دعاؤں میں مصروف رہتا تھا۔میرے پیارے! میں آپ کی دعاؤں کا ممنون ہوں۔میں آپ کی خواہش کے مطابق کسی وقت دو تین روز کے لئے آپ کے ہاں آنے کی کوشش کروں گا۔حضرت مفتی صاحب یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ امریکہ میں ایک پادری نے ایک کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی اور میری تصاویر شائع کرتے ہوئے لکھا کہ یسعیاہ کتاب (بائیل ) میں جو لکھا ہے کہ صادق کو کس نے مشرق سے مبعوث کیا ، وہ صادق اس زمانہ کا نبی مسیح موعود ہے جس کا