اصحاب احمد (جلد 10) — Page 376
376 ہوا اور پھر خودنذیرحسین صاحب ( محمد حسین ) بٹالوی صاحب کا ولیمہ کھانے کے لئے بدیں عمر و پیرانہ سالی دوسوکوس کا سفر اختیار کر کے بٹالہ میں پہنچیں اور وہ سفر بالکل روا ہو ہے۔نیز حضور رقم فرماتے ہیں: (۳۴) ،، اس بات کے سمجھنے کے لئے کہ انسان اپنے منصوبوں سے خدا تعالیٰ کے کاموں کو روک نہیں سکتا۔یہ نظیر نہایت تسلی بخش ہے کہ سال گزشتہ میں جب ابھی فتوای تکفیر میاں بٹالوی صاحب کا طیار نہیں ہو اتھا۔اور نہ انہوں نے کچھ بڑی جد و جہد اور جان کنی کے ساتھ اس عاجز کے کافر ٹھہرانے کے لئے توجہ فرمائی تھی۔صرف ۷۵ احباب اور مخلصین تاریخ جلسہ پر قادیان میں تشریف لائے تھے۔مگر اب جب کہ۔۔۔بٹالوی صاحب نے ناخنوں تک زور لگا کر اور آپ بعد مشقت ہر یک جگہ پہنچ کر اور سفر کی ہر روزہ مصیبتوں سے کوفتہ ہو کر اپنے ہم خیال علماء سے اس فتوی پر مہریں ثبت کرائیں اور وہ اور ان کے ہم مشرب علماء بڑے ناز اور خوشی سے اس بات کے مدعی ہوئے کہ گویا اب انہوں نے اس الہی سلسلہ کی ترقی میں بڑی بڑی روکیں ڈال دی ہیں تو اس سالانہ جلسہ میں۔۔تین سوستائیس احباب شامل جلسہ ہوئے اور ایسے صاحب بھی تشریف لائے جنہوں نے تو بہ کر کے بیعت کی۔اب سوچنا چاہیئے کہ کیا یہ خدا تعالیٰ کی عظیم الشان قدرتوں کا ایک نشان نہیں کہ بٹالوی صاحب اور ان کے ہم خیال علماء کی کوششوں کا الٹا نتیجہ نکلا اور وہ سب کوششیں برباد گئیں؟ کیا یہ خدا تعالیٰ کا فعل نہیں کہ میاں بٹالوی کے پنجاب اور ہندوستان میں پھرتے پھرتے پاؤں بھی گھس گئے لیکن انجام کار خدا تعالیٰ نے ان کو دکھلا دیا کہ کیسے اس کے ارادے انسان کے ارادوں پر غالب ہیں۔واللہ غالب عــلــى أمــره والـكـن اكثــر الـنـاس لا يَعْلَمون - حلا (۳۵) ،، فہرست ۳۱۳ صحابہ سے پہلے حضور رقم فرماتے ہیں: اس جلسہ کے موقع پر اگر چہ پانسو کے قریب لوگ جمع ہو گئے تھے لیکن وہ احباب اور مخلص جو محض اللہ شریک جلسہ ہونے کے لئے دور دور سے تشریف لائے ان کی تعداد قریب تین سو پچیس کے پہنچ گئی تھی۔،، (۳۶) ۴- منشی حبیب الرحمن صاحب ایسے عشاق حضرت اقدس تو سال کے دوران پروانہ وار کئی بار حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔اور پھر اولین جلسہ سالانہ (۱۸۹۱ء) کے فوائد وبرکات سے وہ مستفیض ہو چکے تھے، بھلا اس دوسرے سالانہ جلسہ سے کیونکر وہ غیر حاضر ہو سکتے تھے۔لیکن اس کے انعقاد کے قریب حضور کومنشی صاحب کے ایک خط سے ان کی علالت کا علم ہوا تو 19 دسمبر کو اپنے ایک مکتوب میں عیادت کرتے ہوئے اپنی اس شدید آرزو کا اظہار فرمایا کہ بشرط صحت وہ شرکت کریں۔اور اللہ تعالیٰ نے منشی صاحب کو شرکت کی توفیق عطا فرمائی۔☆ اشتہارے دسمبر ۱۸۹۲ء بعنوان ” قیامت کی نشانی“ مندرجہ آئینہ کمالات اسلام (بعد صفحه ۶۰۴)