اصحاب احمد (جلد 10) — Page 375
375 کہ یہ چل کر آئے ہیں۔ان کو روزہ ہے۔فرمایا کیا حرج ہے؟ حاجی پورکیا دور ہے؟ جوان آدمی ہیں چنانچہ میں نے روزہ پورا کیا۔اور دوسرے دن بھی رکھا۔(قلمی کا پی صفحہ ۴۵ تا ۴۷) وو حضور نے سفر میں بار ہاروزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا کفران نعمت ہے۔اور اکثر جو ( دوست ) آتے تھے اور ( ان کا ) روزہ ہوتا تھا۔خواہ کوئی وقت ہو ( حضور ) روزہ افطار کرا دیتے تھے۔اور بہت تاکید فرماتے کہ سفر میں خواہ کسی قدر ہو روزہ نہیں رکھنا چاہئیے تعداد (میل) سفر کی بابت دریافت پر فرمایا کہ یہ علیحدہ علیحدہ ہے۔ایک آدمی جس کو کبھی کبھی سفر کرنا پڑتا ہے، اس کے لئے گھر سے روانہ ہوتے ہی سفر ہے۔لیکن ایسا آدمی جس کا کام روز مرہ یا اکثر سفر کرنا ہے۔وہ مسافر نہیں ہوسکتا۔زمیندار دھوپ میں ہل چلاتے ہیں ان کے لئے دس پانچ کوس کا کچھ سفر نہیں۔قلمی کا پی صفحه ۲ ۵ تا ۵۴) جلسہ سالانہ (۱۸۹۲ء) میں شمولیت اور تبلیغ یورپ و امریکہ کے بارے مشاورت جلسہ سالانہ منعقدہ ۱۸۹۲ء کے کوائف درج کئے جاتے ہیں۔ا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے ایک اشتہار میں رقم فرمایا: سال گزشتہ میں بمشورہ اکثر احباب یہ بات قرار پائی تھی کہ ہماری جماعت کے لوگ کم سے کم ایک مرتبہ سال میں یہ نیت استفادہ ضروریات دین و مشورہ اعلائے کلمہ اسلام و شرع متین اس عاجز سے ملاقات کریں اور اس مشورہ کے وقت یہ بھی قرین مصلحت سمجھ کر مقرر کیا گیا تھا کہ ۲۷ / دسمبر کو اس غرض سے قادیان میں آنا انسب اور اولیٰ ہے کیونکہ یہ تعطیل کے دن ہیں اس جلسہ ) کی بڑی غرض یہ بھی ہے کہ تا ہر یک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اٹھانے کا موقعہ ملے اور ان کے معلومات دینی وسیع ہوں۔۔۔۔۔۔( لیکن ) لاہور میں چینیاں والی مسجد کے امام نے ایک فتوی دیتے ہوئے )۔۔۔۔۔۔۔ایک طول طویل عبارت لکھی ہے کہ ایسے جلسہ پر جانا بدعت بلکہ معصیت ہے اور ایسے جلسوں کا تجویز کر نا محدثات میں سے کرنا ہے۔جس کے لئے کتاب اور سنت میں کوئی شہادت نہیں اور جو شخص اسلام میں ایسا امر پیدا کرے، مردود ہے۔“ سوعلماء اور ان کے تابع عوام کے ایسے خیالات تھے جن کی تردید میں حضرت اقدس کو ایک مبسوط اشتہار ( جو آئینہ کمالات اسلام میں آٹھ صفحات میں درج ہوا ) شائع کرنا پڑا جس میں بتایا کہ بزرگوں کی ملاقات کے لئے سفر کرنے والے ہرگز مردود نہیں قرار پاسکتے۔بخاری شریف کی ایک حدیث کے مطابق جو شخص طلب علم کی خاطر سفر کرے، اللہ تعالیٰ بہشت کی راہ اس پر آسان کر دیتا ہے۔اور تحریر فرمایا: - صد ہالوگ طلب علم یا ملاقات کے لئے نذیر حسین خشک معلم کے پاس دہلی میں جائیں اور وہ سفر جائز