اصحاب احمد (جلد 10) — Page 234
234 مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری اور حافظ روشن علی صاحب کو مقرر کیا ہے ان کا کام یہ ہے کہ صیغے مقرر کریں۔اور مبلغ مقرر کریں۔جہاں احمدی ہوں وہاں احمدیوں کو مقرر کریں۔اور جہاں احمدی نہیں وہاں خود تبلیغ کریں۔(71) اسی شوری میں صدرانجمن کا ایک لاکھ قرض کے دور کرنے کیلئے جو خاص انتظام فراہمی چندہ بالخصوص چندہ خاص کیا گیا تھا اس میں مولانا بقا پوری صاحب اور تین اور احباب کو ضلع شاہ پور کے لئے متعین کیا گیا تھا۔(72) علاقہ سندھ میں کامیاب تبلیغ:۔سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ایک رؤیا کی بناء پر اپریل ۱۹۲۳ء میں علاقہ سندھ میں تبلیغی مشن قائم فرمایا۔اور حضرتمولا نا بقا پوری صاحب کو اس علاقہ کا امیر التبلیغ مقر فرمایا اور اپنے ہاتھ پر بیعت لینے کی اجازت بھی مرحمت فرمائی۔اس وقت سنجوگی قوم پر جوسندھ میں ایک لاکھ کے قریب ہے آریہ قوم نے ملکانوں کی طرح ارتداد کا جال پھیلا دیا تھا۔مولانا صاحب محنت کر کے چند ماہ میں سندھی کی چند کتابیں پڑھ کر تقریر کرنے کے قابل ہو گئے۔اور اولاً سب علاقہ میں آریہ سماجیوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔جس جگہ یہ لوگ سادہ لوح سندھیوں کو ورغلا کر ارتداد پر آمادہ کرتے مولانا صاحب وہاں پہنچ کر انہیں بقیہ حاشیہ :۔اپنے بیٹے سے کہا کہ یہ بہت بڑے عالم فاضل ہیں (صفحہ ۱۲۸ تا ۱۳۰) آپ نے سید والہ میں تین دن میں ۱/۲۔۲۵ گھنٹے تقریریں اور مناظرے کئے۔(صفحه ۱۳۶،۱۳۵) حکمت عملی سے حضرت حافظ محمد ابراہیم صاحب کی بہو کا رخصتانہ کرایا ( صفحه ۱۳۷ تا ۱۲۹) مولوی عبد الله چکڑالوی سے کامیاب گفتگو (صفحہ ۱۳۹ تا۱۴۲) ایک علاقہ کے رئیس کا متاثر ہوکر اپنے مولوی کو ناراض ہونا۔( صفحہ ۱۴۷ تا ۱۵۰) مولانا صاحب کا بمعیت حضرت مولوی سرور شاہ صاحب و حضرت میر محمد اسحاق صاحب علاقہ مانسہرہ ود دیگر اں اور دانہ میں تبلیغ کے لئے ۱۹۱۵ء میں جانا ( صفحہ ۱۵۰ ۱۵۱) بیگم پور ضلع جالندھر میں جمعیت حضرت حافظ روشن علی صاحب و حضرت میاں محمد اسحاق صاحب تبلیغ اور مولوی ثناء اللہ کا آنے سے انکار (صفحہ ۱۵۶ ۱۵۷) حکمت کے ساتھ شیعہ کو جواب جس کو شیعہ نواب صاحب نے قبول کر لیا۔(صفحہ ۱۶۰، ۱۶۱) گوجرانوالہ میں ایک نوجوان کی قبول احمدیت (صفحہ ۱۶۴، ۱۶۵) لاکھ (سندھ) کے قریب ایک جگہ آپ کی برکت کے ظاہر ہونے پر ایک خاندان نے بیعت کر لی (صفحہ ۱۷۵،۱۷۴) ریویوارد و بابت فروری ۱۹۱۸ء میں ضلع جالندھر میں آپ کے مصروف تبلیغ ہونے کا ذکر ہے۔(صفحہ ۷۸ ) اور ریویو بابت نومبر ۱۹۲۰ء میں مرقوم ہے کہ مشرقی بنگال کے احمدیوں کی استدعا پر آپ کو وہاں بھجوایا گیا۔پینتیس تقاریر ہوئیں جو پسند کی گئیں اب احباب کلکتہ کی درخواست پر آپ ایک ماہ وہاں قیام کریں گے۔(صفحہ ۴ ۳۸) ریویوار دو۔