اصحاب احمد (جلد 10) — Page 235
235 اسلام پر پختہ کرتے اس طرح شب و روز کی ایک لمبی جد و جہد کا نتیجہ یہ ہوا کہ سات آٹھ ماہ میں ہی سنجوگی قوم سے آریہ سماج کو مایوس ہونا پڑا۔اور ارتداد کی یہ آگ سرد ہو گئی۔دوسرے سال ۱۹۲۴ء میں علماء فقراء اور امراء تینوں سے مقابلہ کرنا پڑا جا بجا مباحثات شروع ہو گئے۔مولانا تنہا ہوتے اور مقابل پر غیر احمدی علماء بعض اوقات درجن تک ہوتے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ آپ ہی کو غلبہ ہوتا۔نتیجہ احمدیت کی طرف لوگوں کی توجہ بڑھتی گئی۔مباحثات کا بھی عجیب رنگ تھا۔جتنا بھی کوئی وقت لیتا آپ اسے دیتے اور جو سوال ہوتا چاہے کیسا ہی غیر متعلق ہوتا آپ ہمیشہ متانت سے اس کا تحقیقی جواب دیتے۔اور کوشش فرماتے کہ لوگ حقیقت کو سمجھ لیں۔ابتداء میں سندھی پنجابیوں سے سخت نفرت رکھتے تھے اس کے علاوہ آریہ سماجیوں کا پھیلایا ہوا ز ہر علماء فقراء کی مخالفت ،ان سب سے عوام کا متاثر ہونا لازمی امر تھا۔گالی گلوچ کا بازار تو ہر جگہ ہی گرم رہتا۔بلکہ بعض جگہ قتل پر بھی آمادہ ہوتے مگر آپ گالیوں کا جواب دینے کی بجائے تہجد میں ان کی ہدایت کے لئے دعائیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۲۶ء میں یہ عسر کی حالت قدرے دور ہوئی۔سندھ میں بعض مقامات پر جماعتیں قائم ہوگئیں۔لوگ باتیں سننے لگے۔علماء پر خاص طور پر رعب پڑا۔بلکہ مولوی بقا پوری کا نام لے کر کہتے کہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس سے بھی سعید روحیں متوجہ ہوئیں۔اور بہت سے افراد کو اللہ تعالیٰ نے قبول احمدیت کی توفیق عطا فرمائی۔آپ ۱۹۲۸ء میں باوجود علالت کے مصروف تبلیغ رہے اور پچاس افراد جماعت میں داخل ہوئے۔آپ جس وقت سندھ میں متعین ہوئے تھے اس وقت سندھی احمدیوں کی صرف ایک جماعت تھی۔جو دو چار خاندانوں پر مشتمل تھی۔لیکن حضرت مولانا صاحب کی برکت سے قریباً پچاس جماعتیں قائم ہوئیں۔جو سینکڑوں افراد پر مشتمل ہیں آپ کلمہ حق کہنے میں نڈر تھے۔اب بہت سے لوگ احمدیت کے مصدق اور مداح بھی ہو گئے ہیں۔اخویم مولوی بشارت احمد صاحب بشیر (نائب وکیل التبشیر ربوہ مزید بیان کرتے ہیں کہ سنجوگی قوم نے قبول اسلام کے بعد غیر مسلم اقارب سے رشتے ناطے جاری رکھے۔اور یہی وجہ ان کے ایمان کی کمزوری کی ہوئی۔حضرت مولانا صاحب کو علم ہوا کہ لاڑکانہ کے قریب ایک شہر میں شدھی ہونے والی ہے۔تو آپ وہاں پہنچے اور مسلمان حافظ گوکل چند نامی کو جور کیس تھے سمجھایا کہنے لگے مولویوں نے ہماری مدد نہیں کی۔اب ہندووں سے عہد ہو چکا ہے یہ کوائف پر مشتمل ایک طویل چٹھی کا خلاصہ ہے جو مولانا صاحب کی علالت کے باعث مستقل واپسی پر میر مرید احمد خان صاحب تالپور جاگیردار اور محمد پریل صاحب ہیڈ ماسٹر کمال ڈیرہ کی طرف سے نظارت دعوۃ وتبلیغ کو موصول ہوئی۔اور الفضل مورخہ ۳۱ اگست ۱۹۲۸ء میں شائع ہوئی۔