اصحاب احمد (جلد 10) — Page 233
233 ۱۹۲۲ء میں اولین با قاعدہ مشاورت میں سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس امر پر زور دیا کہ تمام احمدی تبلیغ کریں۔اور اس تعلق میں یہ بھی فرمایا:۔میں نے مبلغوں کے حلقے تقسیم کئے ہیں کہ ان کی نگرانی میں یہ کام کرائے جائیں لیکن آپ لوگ آزاد نہیں۔آپ نے ابھی سے عمل کرنا ہے۔مبلغ مشورہ دے گا۔مولوی غلام رسول صاحب راجیکی اور بقیہ حاشیہ:۔بیعت کی۔(صفحہ ۵۶) ہوشیار پور میں آپ نے مولوی ثناء اللہ امرتسری سے کامیاب مناظرہ کر کے ان کے استہزاء کا ایسے رنگ میں جواب دیا کہ وہ لاجواب ہو گیا۔(صفحہ ۵۷ تا ۶۰) ہوشیار پور میں پادری جوالا سنگھ سے سات آٹھ ہزار کے مجمع میں آپ کا کامیاب مناظرہ ہوا۔جبکہ مسلمان مولوی کی کمزوری کا اقرار از خود مسلمانوں نے کرلیا تھا۔(صفحہ ۶۰ تا ۶۲ ) ضلع جالندھر میں وفات عیسی پر مناظرہ ہوا۔(صفحہ ۶۷ (۱۹۱۹ ء میں سیالکوٹ میں مولوی محمد ابراہیم سیالکوٹی سے اس بارہ میں مناظرہ ہوا ( ۶۷ تا ۷۲ ) بمقام سکرنڈ (سندھ) وفات عیسی پر بحث کے نتیجہ میں ایک شخص احمدی ہو گیا (صفحہ ۷۲ تا ۷۴ ۱۹۱۵ء میں چنگا بنگیال کے قریب مناظرہ کیا جس پر مخالف مولوی ساکت ہوگیا۔( صفحه ۴ ۷ تا ۷۸ ) ۱۹۱۵ء مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین سے کامیاب گفتگو (صفحہ ۷۸ تا ۸۵ ) حکمت کے ساتھ ۱۹۱۱ء میں ضلع سرگودھا میں غیر احمدی مخالفین سے اجازت لے کر تبلیغی باتیں سنائیں (صفحہ ۸۵ تا ۸۷) ۱۹۱۵ء میں مفکر احرار چوہدری افضل حق کو دہریہ سے مسلمان بنایا۔(صفحہ ۸۷ تا ۸۹) خواجہ کمال الدین صاحب سے گفتگو ( صفحه ۹۱،۹۰) ایک غیر مبائع مبلغ کومسکت جواب (صفحہ ۹۲۹۱) آپ کے دلائل کی وجہ سے ایک احمدی ہونے والے کی بیوی کا مقدمہ تنسیخ نکاح انگریز مجسٹریٹ نے خارج کر دیا۔(صفحہ ۹۴-۹۳) ایسے ہی ایک مقدمہ میں پٹیالہ کے شیعہ مجسٹریٹ کو آپ نے رام کر لیا۔(صفحہ ۳ ۹ تا ۹۷) آپ کے مباحثہ سے ایک رئیس وڈیرا اللہ وسایا صاحب سکنہ کمال ڈیرہ نے احمدیت قبول کر لی۔(صفحہ ۹۹-۹۸) ۱۹۱۷ء میں آریہ شانتی سروپ کا جو مسلمانوں سے مرتد ہوا تھا آپ نے پبلک میں ناطقہ بند کر کے عاجز کر دیا۔جبکہ دوسرے مسلمان مولویوں نے اسلام کی مدافعت میں کامیاب ہونے کی بجائے مسلمانوں کو حد درجہ شرمندہ کر دیا تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مولا نا بقا پوری صاحب کو مسکت جواب سمجھا دیا۔(صفحہ ۱۰۲ تا ۱۱) ضلع نواب شاہ میں سرہند شریف کے ایک خلیفہ کے مرید کو مولانا نے احمدی کر لیا تو خلیفہ ( پیر ) نے آپ کو بلوایا۔اور آپ پر توجہ ڈالی لیکن خود بیہوش ہو گیا۔اور حد درجہ مرعوب ہو گیا۔اور سیدنا حضرت صاحب کی ملاقات کا اشتیاق ظاہر کیا۔(صفحہ ۱۱۴ تا ۱۱۸) ۱۹۱۵ء میں مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی کو نبوت حضرت مسیح موعود کے متعلق لاجواب کیا۔(صفحہ ۱۲۲ تا ۱۲۴) مولوی ثناء اللہ امرتسری سے ایک مناظرہ (صفحہ ۱۲۶ تا ۱۲۸) سندھ کے پیر صاحب سے کامیاب گفتگو کے نتیجہ میں پیر صاحب نے نماز ایک احمدی کی اقتداء میں ادا کی اور مولانا صاحب کے متعلق بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر