اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 207 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 207

207 میاں محمد یوسف صاحب کے مکان کی ڈیوڑھی میں ادا ہونا شروع ہوا اور رفتہ رفتہ جماعت وسیع ہوتی گئی۔ازدواجی زندگی :۔حضرت ملک صاحب نے دو شادیاں کیں۔دوسری شادی محترمہ ہمشیرہ صاحبزادہ سیف الرحمان خان صاحب احمدی مبلغ بازید خیل ضلع پشاور سے ہوئی۔لیکن ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔پہلی شادی سے تین لڑکیاں اور ایک لڑکا ہوا۔لڑکیاں طور اور معیار میں شادی شدہ ہیں ایک داماد خانزادہ محمد عظیم اللہ خانصاحب ساکن طور تھے اور ایک محمد بہرام خان صاحب وکیل ساکن معیار ہیں۔اکلوتا لڑکا میر افضل خاں خلافت اولیٰ میں قادیان تعلیم پانے آیا تھا۔لیکن تعلیم نہ پاسکا افسوس کہ آوارہ مزاج ہو گیا۔بعض اقارب اسے حضرت ملک خان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن وہ خود ہی ۱۹۱۴ء میں جوانی میں وفات پا گیا۔خلافت سے وابستگی :۔آپ نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت بھی کی اور دسمبر ۱۹۰۸ء کے جلسہ سالانہ میں بھی شرکت کی۔اور سید نا حضرت مرزا محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ثانی منتخب ہونے پر ان کی بھی بیعت کی ان پر اختلاف کا کوئی اثر نہ تھا۔ساری عمر مرکز سے وابستہ رہے۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب نے ابتداء میں خلافت ثانیہ کی بیعت نہیں کی تھی۔حضرت ملک صاحب بیان کرتے تھے کہ ۱۹۱۴ء کے جلسہ سالانہ پر میں نے بعض احباب کو کہا کہ آپ قاضی صاحب کو سمجھا ئیں کہ بیعت کر لیں۔چنانچہ قاضی صاحب نے بھی ۳۰ دسمبر ۱۹۱۴ء کو بیعت کر لی تو میں مطمئن ہو گیا۔فرماتے تھے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ۱۱ نومبر ۱۹۰۱ء کو جب صوبہ سرحد پنجاب سے الگ صوبہ بن گیا۔تو وہاں ایک قانون فرنٹیر کرائمز ریگولیشن ( frontier crimes regulation ) پاس ہوا۔جو بڑا سخت تھا۔آپ لوگوں نے کس طرح منظور کیا میں نے کہا کہ یہ ہمارے بس کی بات نہ تھی۔عبرة لأولى الابصار :۔سب سے مقدم مرزا محمد عباس عرائض نو لیس بکٹ گنج مردان۔احمدیت کے خلاف خلافت ثانیہ کی تائید میں ایک خاص اجتماع نمائندگان جو ۱۲ اپریل ۱۹۱۴ء کو قادیان میں ہوا تھا (جس کی تفصیل اصحاب احمد“ کی سابقہ جلدوں میں خلاصہ آچکی ہے ) اس میں آپ بھی شریک تھے۔آپ کا نام بطور ملک محمد خانصاحب پریذیڈنٹ انجمن مردان مرقوم ہے۔(62)