اصحاب احمد (جلد 10) — Page 208
208 میدان تحریر میں اترا۔اور اخبار چودھویں صدی راولپنڈی میں سرسید آنجہانی اور مرزا غلام احمد قادیانی“ کے عنوان سے مضامین شائع کرتا رہا۔مگر آخر میں اپنا نام الٹا کر کے آزرم سابع از نادرم“ لکھتا رہا۔مگر اس کا نتیجہ اس کو بہت خطرناک ملا۔آج بکٹ گنج میں اس کا مکان ایک قابل عبرت یادگار ہے۔سب خاندان تباہ ہو گیا۔اور مکانات کھنڈر پڑے ہیں فَتَلكَ بَيُوتِهِمْ خَاوِيَهِ عَلَى عُرُوشِهَا۔نواب محبت خانصاحب ساکن طورو کے حجرہ میں مولوی لوگ جمع ہوتے تھے ان میں ایک مولوی قطب شاہ نام تھا۔جو موضع شام پور کا باشندہ تھا۔اور اس کا مطالعہ کتب دیگر مولویوں کی نسبت قدرے وسیع تھا۔جوں جوں مولویوں کو سلسلہ احمدیہ کا علم ہوتا گیا۔وہ مخالفت پر آمادہ ہوتے گئے۔۱۹۱۳ء میں اسلامیہ کالج پشاور میں کھلا تھا تو قطب شاہ سب سے پہلا ڈین (DEAN) یا معلم دینیات مقرر ہوا۔اس کا کالج کے طلباء کے سامنے یہ رویہ تھا کہ وہ اسلام کو اسی رنگ میں پیش کرتا جس طرح ایک احمدی یا کوئی معقول انسان مذہب کو پیش کرتا ہے مگر مولویوں کی مجلس میں عام ملاؤں کی خلاف عقل باتوں کی تصدیق کرتا تھا۔چنانچہ وہ خود حیات عیسی کا قائل نہ تھا۔مگر حیات کے ماننے والوں کے خلاف بھی نہیں بولتا تھا۔ایک دن نواب محبت خاں صاحب کے حجرہ میں مجلس علماء میں احمدیت کا ذکر آنے پر قطب شاہ مذکور نے کچھ ہتک آمیز باتیں حضرت احمد علیہ السلام کے خلاف کہیں جن سے ملک خان محمود خانصاحب کی ہتک بھی مقصود تھی۔یہ بات ملک خان کے کانوں تک پہنچ گئی۔اور انہوں نے اسے کہلا بھیجا کہ کب تک شامت پور اور طور و میں پناہ ڈھونڈو گے آخر تمہارا مردان جانے کا راستہ طور و سے معیار کی طرف سے ہی ہے۔میں تم کو کان پکڑوا کر چھوڑوں گا تا کہ پھر تم خدا کے مرسل“ یا میری تو ہیں کا خیال تک نہ لاؤ۔چنانچہ ایک دن وہ مردان جارہا تھا۔خان محمود خاں صاحب کو پتہ لگا۔اور وہ سڑک کے کنارے چار پائی ڈال کر انتظار کرتے رہے۔چنانچہ اسے ٹانگہ سے اتار کر اس کی خوب مرمت کی پھر قطب شاہ نے کبھی جماعت احمدیہ کے خلاف کچھ نہیں کہا۔یہ واقعہ ۱۹۱۲ ء سے قبل کا ہے۔نواب محبت خاں صاحب ملک خاں کا بہت احترام کرتے تھے۔انہیں اس واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے اہل مجلس سے کہا کہ آئندہ ہماری مجلس میں کوئی شخص احمدیت کے خلاف بات نہ کیا کرے جسے ملک محمود خاں صاحب سن کر ناراض ہوں۔حاجی صاحب تو رنگ زائی کی شرانگیزی کیا رنگ لائی :۔حاجی فضل واحد صاحب