اصحاب احمد (جلد 10) — Page 151
151 چوہدری بڑھے خاں صاحب چوہدری حاکم خاں صاحب (پسر) چوہدری ولی محمد صاحب (برادرزاده) چوہدری گل محمد صاحب ( بر اور زادہ ) رض چوہدری بڑھے خاں صاحب :۔محترم چوہدری بڑھے خانصاحب قوم راجپوت سکنہ موضع کر یام (ضلع جالندھر ) نے ۱۹۰۳ء میں بیعت کی۔اور حضرت مسیح موعود کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا۔ایک دفعہ آپ پر سکتہ طاری ہوگیا اور سمجھا گیا کہ آپ وفات پاگئے ہیں قبر تیار کی گئی۔یغسل دیا جار ہا تھا کہ آپ اُٹھ بیٹھے اور پوچھنے لگے کہ یہ کیا کر رہے ہو۔اور کہا کہ میں ابھی ابھی جنت سے آیا ہوں۔وہاں بہت میوے دیکھے ہیں۔* ۱۹۲۵ء میں آپ نے سوا سو سال کی عمر میں بحالت ایمان وفات پائی۔آپ بہت عبادت گزار تھے۔تہجد گزار تھے۔اور نوافل ادا کرتے تھے۔اور شریعت کی پابندی کرتے تھے۔جو جدید گویا اللہ تعالیٰ نے جنت کی بشارت سے ان کو نو از اجو ان کے حسن خاتمہ پر دلالت کرتی ہے۔مئولف۔بودے خاں۔اہلیہ بودے خان حاکم خان سکنہ کر یام کی بیعت البدر بابت ۲۳/۱۰/۰۳ میں درج ہے (صفحہ ۳۲۰) حالات لکھنے والے دوست بیان کرتے ہیں کہ موضع کر یام بودے خاں‘نام کا کوئی شخص نہ تھا بڑھے خاں کو بودے خاں درج کیا گیا ہے۔اور یہ بات درست نظر آتی ہے ان کے پوتے چوھدری غلام حسن صاحب یہی امربیان کرتے ہیں۔اس قرینہ سے بھی یہ درست معلوم ہوتا ہے کہ ان کے والد حاکم خاں کا اپنے والدین کے معابعد نام بیعت میں درج ہے۔اس مقام پر اس موضع کے انہیں افراد بشمول چھ خواتین کی بیعت درج ہے۔یہ بیعت بذریعہ خط معلوم ہوتی ہے چنانچہ ان بیعت کنندگان میں سے چوہدری نذیر احمد صاحب ولد چوہدری مراد بخش صاحب زندہ ہیں اور وہ اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بیعت بذریعہ خط تھی اور والد صاحب نے میرا نام بھی اس میں درج کرا دیا تھا۔بقیہ حاشیہ اگلے پر